پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی المناک آتشزدگی میں ہونے والی 73 ہلاکتوں کی بنیادی وجہ دم گھٹنا رہی تھی۔
یہ مہلک آگ 17 جنوری کی رات مال میں بھڑکی اور مکمل طور پر بجھانے میں تقریباً 2 دن لگ گئے۔
آگ کے نتیجے میں 1,100 سے زائد دکانیں تباہ ہو گئیں۔ ملبے سے 10 دن کی انتھک تلاش کے باوجود کم از کم 8 افراد ابھی تک لاپتا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کیس کی سماعت میں اہم پیشرفت، گواہوں کے بیانات قلمبند
ڈاکٹر سمیعہ سید نے یہ جواب عدالتی کمیشن کو جمع کرایا جو اس واقعہ کی تحقیقات کر رہا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ہلاکت کی سب سے بڑی وجہ کیا تھی، تو انہوں نے پیشہ ورانہ رائے دیتے ہوئے کہا کہ ہلاکت کی سب سے بڑی وجہ سانس لینے میں رکاوٹ یعنی اسفیکشن تھی۔
تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ 66 افراد میں ’پولی ٹراما‘ کو رد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ان کے جسم کے ٹکڑے ہو گئے تھے۔ پولی ٹراما وہ طبی حالت ہے جس میں متعدد شدید چوٹیں شامل ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر سید نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 6 مکمل لاشوں میں ’دم گھٹنے‘ کو ہلاکت کی بنیادی طبی وجہ کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
’66 باقیات میں مہلک آگ کو ہلاکت کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا، یہ 66 باقیات ٹکڑوں میں تھیں، جو 100 فیصد جل چکی تھیں۔
پولیس سرجن کے مطابق، 8 افراد زخمی ہوئے، 7 لاشیں برآمد ہوئیں اور 66 دیگر کی باقیات ملیں۔
مزید پڑھیں:بلدیہ فیکٹری سے سانحہ گل پلازہ تک، انتظامات میں بہتری نہ آسکی
جب یہ سوال کیا گیا کہ آیا نتائج ’انتقال میں تاخیر یا طویل قید‘ کی نشاندہی کرتے ہیں، تو ڈاکٹر سید نے باقیات کے برآمد ہونے کی زمانی تفصیلات فراہم کیں۔
جب پوچھا گیا کہ آیا متاثرین کی حالت بروقت بچاؤ کی کمی کی نشاندہی کرتی ہے، تو پولیس سرجن نے کہا کہ بچاؤ کا مطلب زندہ افراد کی محفوظ منتقلی ہے۔ انہیں 8 زخمی افراد موصول ہوئے۔
’میں اس بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتی، تاہم باقیات کی برآمدگی کی زمانی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔‘

ٹاکسک گیس یا غیر معمولی مادے کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈاکٹر سید نے بتایا کہ 7 ہلاک شدگان سے جمع کی گئی ٹاکسکولوجی کی رپورٹس کا نتیجہ ابھی باقی ہے۔
’…6 مکمل لاشوں کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا، تاہم زیادہ تر باقیات مکمل طور پر پراسیس کی گئی تھیں۔‘
پولیس سرجن نے کہا کہ تمام طبی رپورٹس تیار کر کے متعلقہ اداروں کو بھیج دی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ سانحے کے پیچھے قبضہ مافیا ہوسکتی ہے، فیصل ایدھی نے خدشات کا اظہار کردیا
اب تک عدالتی کمیشن کے سامنے مختلف اسٹیک ہولڈرز پیش ہو چکے ہیں، جن میں 2 اہم گواہ، 4 استغاثہ کے گواہ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور چیف فائر آفیسر شامل ہیں۔
فائر چیف نے ہلاکتوں کی ذمہ داری گل پلازہ انتظامیہ پر ڈال دی تھی کہ فائر سیفٹی پروٹوکول نافذ نہ کرنے کی وجہ سے اتنی جانیں ضائع ہوئیں۔
تاہم، گل پلازہ مینجمنٹ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا نے کمیشن کو بتایا کہ ریسکیو خدمات دیر سے پہنچی اور لوگوں کو نکالنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔














