پاکستانی کرکٹ زوال کا شکار، 2 برس میں ناکامیوں کی طویل فہرست سامنے آ گئی

بدھ 13 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ 2 برسوں کے دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی مسلسل تنزلی کا شکار رہی، جہاں قومی ٹیم کو عالمی ایونٹس، دوطرفہ سیریز اور کمزور سمجھی جانے والی ٹیموں کے خلاف بھی شرمناک شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ناقص نتائج نے نہ صرف ٹیم مینجمنٹ بلکہ پاکستان کرکٹ کے مجموعی ڈھانچے پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم گزشتہ 2 برس کے دوران بدترین کارکردگی، غیر متوقع شکستوں اور عالمی ایونٹس میں ناکامیوں کے باعث شدید تنقید کی زد میں رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان میں کرکٹ کے معیار کو کیا ہوگیا؟ کیون پیٹرسن کو کس بات نے پریشان کردیا؟

قومی ٹیم کو اس عرصے میں کئی ایسی ٹیموں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جنہیں ماضی میں نسبتاً کمزور تصور کیا جاتا تھا۔ پاکستان ٹی 20 انٹرنیشنل میچز میں آئرلینڈ اور امریکا جیسی ٹیموں سے بھی شکست کھا گیا، جبکہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوسرے مرحلے کے لیے بھی کوالیفائی نہ کر سکا۔

ٹیسٹ کرکٹ میں بھی پاکستان کی صورتحال مایوس کن رہی۔ قومی ٹیم کو اپنی ہی سرزمین پر بنگلہ دیش کے خلاف 2-0 سے سیریز میں شکست ہوئی، جبکہ ایک ٹیسٹ میچ میں پہلی اننگز میں 556 رنز بنانے کے باوجود اننگز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ون ڈے اور ٹی 20 فارمیٹ میں زمبابوے کے خلاف بھی پاکستان کو شکست ہوئی، جو شائقینِ کرکٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔

چیمپئنز ٹرافی میں قومی ٹیم ایک بھی میچ جیتنے میں ناکام رہی اور سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکی۔ اسی دوران پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

بولنگ شعبے کی کمزور کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ٹی 20 میچ کے ابتدائی 6 اوورز میں قومی ٹیم نے 92 رنز دے ڈالے۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان کرکٹ بورڈ میں اربوں روپوں کے گھپلوں کا انکشاف، محسن نقوی بھی زد میں آسکتے ہیں؟

مزید برآں پاکستان کمزور سمجھی جانے والی نیوزی لینڈ ٹیم کے خلاف 8 میں سے 7 میچز ہار گیا، جبکہ بنگلہ دیش کے خلاف ایک ٹی 20 میچ میں پوری ٹیم صرف 110 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

قومی ٹیم 2026 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے لیے بھی کوالیفائی نہ کر سکی، جبکہ بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیریز میں شکست کے ساتھ مسلسل تیسرا ٹیسٹ میچ بھی ہار گئی۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق یہ نتائج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ کو انتظامی، تکنیکی اور منصوبہ بندی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے، بصورت دیگر عالمی سطح پر ٹیم کی ساکھ مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp