امریکی بحری بیڑے میں دیواروں پر چلنے اور اڑنے والے روبوٹس تعینات کیے جائیں گے

منگل 17 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے بحرالکاہل میں موجود بحری بیڑے میں اب سائنس فکشن جیسی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہونے جا رہا ہے جہاں اڑنے اور دیواروں پر چڑھنے والے روبوٹس جہازوں کی دیکھ بھال اور معائنہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے توانائی پابندی ختم کرنے کو کیوبا کی قیادت میں تبدیلی سے مشروط کردیا

امریکی بحریہ اور جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن نے گیکو روبوٹس سے 71 ملین ڈالر تک مالیت کا معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت کمپنی اپنے جدید روبوٹس کے ذریعے بحرالکاہل کے بحری بیڑے کے 18 جہازوں کا معائنہ اور دیکھ بھال کرے گی۔ یہ 5 سالہ معاہدہ اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے جو کسی روبوٹک کمپنی کو دیا گیا ہے۔

پٹسبرگ میں قائم کمپنی کے مطابق اس کے روبوٹس ایسے مقامات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جہاں انسانوں کے لیے پہنچنا مشکل ہوتا ہے جیسے اسٹوریج ٹینک اور بیلسٹ ٹینک۔ یہ روبوٹس مواد اور ڈھانچے کے بارے میں تفصیلی معلومات جمع کرتے ہیں اور اسے کمپنی کے مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر کینٹیلیور کو بھیجتے ہیں جہاں اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔

یہ نظام اپنی اعلیٰ کارکردگی کے باعث نمایاں ہے کیونکہ یہ مرمت کی ضروریات کو روایتی طریقوں کے مقابلے میں 50 گنا زیادہ تیزی اور درستگی سے شناخت کر سکتا ہے۔

اس وقت کمپنی کے پاس تقریباً 250 روبوٹس کا بیڑا موجود ہے جو تجارتی اور سرکاری شعبوں میں خدمات انجام دے رہا ہے، جبکہ رواں سال مزید 50 سے 60 روبوٹس تیار کرنے کا منصوبہ بھی ہے۔

مزید پڑھیے: امریکی جنگی جہازوں پر مشتمل بحری بیڑا مشرق وسطیٰ پہنچ گیا، ایران کا واشنگٹن کو انتباہ

کمپنی کے مطابق صرف ایک روبوٹ کے ذریعے فلائٹ ڈیک کے معائنے سے تین ماہ سے زیادہ کی ممکنہ تاخیر سے بچا جا سکا۔

یہ معاہدہ نہ صرف ان روبوٹس کی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ دیکھ بھال کے شعبے میں روبوٹک ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔

ابتدائی طور پر اس معاہدے کی مالیت 54 ملین ڈالر تک ہوگی اور اگلے 5 برسوں میں کمپنی مختلف اقسام کے جہازوں جن میں ڈسٹرائرز، ایمفیبیئس جہاز اور لیٹورل کامبیٹ شپ شامل ہیں پر کام کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

جنوبی کوریا کے تمام 5 کروڑ 20 لاکھ شہریوں کو مفت اے آئی کی سہولت دینے کا منصوبہ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں