امریکا کے بحرالکاہل میں موجود بحری بیڑے میں اب سائنس فکشن جیسی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہونے جا رہا ہے جہاں اڑنے اور دیواروں پر چڑھنے والے روبوٹس جہازوں کی دیکھ بھال اور معائنہ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے توانائی پابندی ختم کرنے کو کیوبا کی قیادت میں تبدیلی سے مشروط کردیا
امریکی بحریہ اور جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن نے گیکو روبوٹس سے 71 ملین ڈالر تک مالیت کا معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت کمپنی اپنے جدید روبوٹس کے ذریعے بحرالکاہل کے بحری بیڑے کے 18 جہازوں کا معائنہ اور دیکھ بھال کرے گی۔ یہ 5 سالہ معاہدہ اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے جو کسی روبوٹک کمپنی کو دیا گیا ہے۔
پٹسبرگ میں قائم کمپنی کے مطابق اس کے روبوٹس ایسے مقامات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جہاں انسانوں کے لیے پہنچنا مشکل ہوتا ہے جیسے اسٹوریج ٹینک اور بیلسٹ ٹینک۔ یہ روبوٹس مواد اور ڈھانچے کے بارے میں تفصیلی معلومات جمع کرتے ہیں اور اسے کمپنی کے مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر کینٹیلیور کو بھیجتے ہیں جہاں اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔
یہ نظام اپنی اعلیٰ کارکردگی کے باعث نمایاں ہے کیونکہ یہ مرمت کی ضروریات کو روایتی طریقوں کے مقابلے میں 50 گنا زیادہ تیزی اور درستگی سے شناخت کر سکتا ہے۔
اس وقت کمپنی کے پاس تقریباً 250 روبوٹس کا بیڑا موجود ہے جو تجارتی اور سرکاری شعبوں میں خدمات انجام دے رہا ہے، جبکہ رواں سال مزید 50 سے 60 روبوٹس تیار کرنے کا منصوبہ بھی ہے۔
مزید پڑھیے: امریکی جنگی جہازوں پر مشتمل بحری بیڑا مشرق وسطیٰ پہنچ گیا، ایران کا واشنگٹن کو انتباہ
کمپنی کے مطابق صرف ایک روبوٹ کے ذریعے فلائٹ ڈیک کے معائنے سے تین ماہ سے زیادہ کی ممکنہ تاخیر سے بچا جا سکا۔
یہ معاہدہ نہ صرف ان روبوٹس کی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ دیکھ بھال کے شعبے میں روبوٹک ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
ابتدائی طور پر اس معاہدے کی مالیت 54 ملین ڈالر تک ہوگی اور اگلے 5 برسوں میں کمپنی مختلف اقسام کے جہازوں جن میں ڈسٹرائرز، ایمفیبیئس جہاز اور لیٹورل کامبیٹ شپ شامل ہیں پر کام کرے گی۔














