دنیا بھر کی تنظیمیں ایک ایسے عالمی سطح کے لیبل کی تیاری میں مصروف ہیں جو یہ ظاہر کرے کہ کسی مصنوعہ یا خدمت کو مکمل طور پر انسان نے بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیپ فیک ٹیکنالوجی: مصنوعی ذہانت نے نئی مشکل کھڑی کردی
بی بی سی کے مطابق یہ اقدام اس بڑھتی ہوئی تشویش کے جواب میں ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے استعمال سے انسانی کام اور تخلیقی صلاحیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
’پراؤڈلی ہیومن‘، ’ہیومن میڈ‘، ’نو اے آئی‘اور ’اے آئی فری‘ جیسے بیانیے اب فلموں، مارکیٹنگ، کتابوں اور ویب سائٹس پر نظر آنے لگے ہیں۔
اے آئی فری لیبل کی اہمیت
ایسے اقدامات اس خوف کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں کہ اے آئی کی مدد سے خودکار نظام انسانی ملازمتیں یا پوری پیشہ ورانہ سرگرمیاں ختم کر رہے ہیں۔
کم از کم 8 مختلف منصوبے ایسے لیبل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو فیئر ٹریڈ لوگو کی طرح عالمی سطح پر پہچانے جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف لیبلز اور ’اے آئی فری‘ کی تعریف میں ابہام کے سبب صارفین کے لیے کنفیوژن پیدا ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: انسانی توجہ کا دورانیہ’ گولڈ فش‘ سے بھی کم، مصنوعی ذہانت کس طرح نقصان پہنچا رہی ہے؟
مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی کی ماہر صارفین ڈاکٹر آمنہ خان کا کہنا ہے کہ اے آئی بڑی تبدیلیاں لا رہا ہے اور ‘انسانی تخلیق’ کی مختلف تعریفیں صارفین کو الجھا رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ایک واحد تعریف اعتماد اور وضاحت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔
سرٹیفیکیشن سسٹمز کیسے کام کرتے ہیں؟
کچھ لیبلز جیسے ’نو اے آئی آئیکون ڈاٹ کام‘، ’اے آئی فری ڈاٹ آئی او‘ یا ’ناٹ بائی اے آئی ڈاٹ ایف وائی آئی‘ ڈاؤن لوڈ کے لیے مفت یا فیس کے عوض دستیاب ہیں اور ان کے لیے زیادہ یا کم جانچ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
مزید پڑھیں: کیا مصنوعی ذہانت پہلے سے بڑھ کر ذہین ہو گئی ہے؟
دوسرے سسٹمز جیسے اے آئی فری سرٹ ادائیگی کے بعد سخت جانچ کے عمل کے ذریعے تصدیق کرتے ہیں کہ کسی مصنوعہ میں اے آئی استعمال ہوا ہے یا نہیں۔ اس کے لیے پیشہ ور تجزیہ کار اور اے آئی شناخت کرنے والا سافٹ ویئر استعمال کیا جاتا ہے۔
انسانی تخلیق کی تعریف مشکل
اے آئی ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف صنعتوں کو یہ طے کرنا مشکل ہے کہ اصل میں کیا انسانی تخلیق ہے،کیونکہ اے آئی اب روزمرہ کے کئی اوزاروں میں شامل ہو چکا ہے۔
اے آئی تحقیقاتی سائنسدان ساشا لوسیانو کا کہنا ہے کہ اے آئی اتنا عام اور مختلف پلیٹ فارمز میں شامل ہو چکا ہے کہ اے آئی فری کا مطلب طے کرنا واقعی مشکل ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اے آئی ایک سپیکٹرم ہے اور ہمیں بائنری (اے آئیْاے آئی فری) کی بجائے جامع سرٹیفیکیشن سسٹمز کی ضرورت ہے۔
جنریٹو اے آئی پر توجہ
کچھ ماہرین کے مطابق فرق جنریٹو اے آئی میں ہونا چاہیے، وہ چیٹ بوٹس جو انسانی ہدایات پر متن، کوڈ، موسیقی یا ویڈیو تیار کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر سنہ 2024 کی ہیو گرانٹ تھرلر فلم ہیریٹک کے اختتامی کریڈٹس میں لکھا گیا کہ اس فلم کی تخلیق میں کوئی جنریٹو اے آئی استعمال نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیے: مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز جدید جنگ کا نیا محاذ بن گئے
فلم ڈسٹری بیوٹر دی مائس اینڈ سین کمپنی نے اسی خیال کو اپناتے ہوئے اپنی تازہ ترین فلم کے پوسٹر پر ’نو اے آئی یوز‘ کا اسٹمپ شامل کیا۔
کمپنی کے سی ای او پال یٹس کا کہنا ہے کہ ہم اے آئی انڈسٹری کی حمایت کرتے ہیں اور اسے دلچسپ وقت سمجھتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ انسانی تخلیق کی قدر بڑھائی جائے۔
آرٹس اور پبلشنگ میں اے آئی کا اثر
آرٹس انڈسٹری میں اے آئی مصنوعات کی بھرمار ہے اور یہی شعبہ اب اے آئی کے خلاف ردعمل کا مرکز بن چکا ہے۔
کتابیں اور فلمیں اے آئی کے ذریعے روایتی طریقوں کے مقابلے میں تیز اور سستی تیار کی جا رہی ہیں۔
بالی وڈ اسٹوڈیو اٹیلی فلکس خاص طور پر اے آئی کی مدد سے فلمیں بناتا ہے۔
بعض اوقات مصنوعات میں اے آئی کے استعمال کا ذکر صارفین کو نہیں بتایا جاتا، جیسا کہ اے آئی بینڈ ویلویٹ سن ڈاؤن کے معاملے میں ہوا۔
انسانی تحریر اور تصدیق
کتابوں میں’ ہیومن ریٹن‘ کا اسٹمپ لگانا ایک رجحان بن گیا ہے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے لیے درکار پانی کی مقدار بڑھا چڑھا کر بتائی جاتی ہے، سیم آلٹ مین
پبلشنگ کمپنی فیبر اینڈ فیبر نے کچھ کتابوں پر یہ اسٹمپ لگانی شروع کی۔
مصنفہ سارہ ہال نے اپنی ناول ہیلم پر اسٹمپ لگانے کی درخواست کی اور کہا کہ اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے کتابوں کا استعمال وسیع پیمانے پر تخلیقی چوری ہے۔
تصدیقی سسٹمز اور عالمی معیارات
کمپنی ’بکس بائی پیپل‘ نے 5 پبلشرز کے ساتھ اشتراک کیا اور پہلی کتاب ٹیلی نووا پر اسٹمپ لگائی۔
آسٹریلیا کی کمپنی ’پراؤڈلی ہیومن‘ بھی سخت جانچ کے ساتھ سرٹیفیکیشن دیتی ہے اور اب موسیقی، فلم، فوٹوگرافی اور اینیمیشن میں بھی کام شروع کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ’گوگل اے آئی خلاصہ گلے پڑگیا‘، آن لائن ٹریفک متاثر ہونے پر ببلشرز کا احتجاج
کمپنی کے سربراہ ایلن فنکل کہتے ہیں کہ انڈسٹری کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اس لیے انسانی تخلیق کی تصدیق کے لیے مکمل جانچ ضروری ہے۔














