ناٹنگھم شائر سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ ایلانہ تھامسن فرنچ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ایک اسٹیٹ ایجنسی نے اس لیے شارٹ لسٹ نہیں کیا کیونکہ ان کی گاڑی 10 سال سے پرانی تھی۔
ایلانہ نے دسمبر 2025 میں ناٹنگھم میں haart میں ٹرینی لیٹنگز نیگیوشی ایٹر کے طور پر درخواست دی تھی۔ درخواست فارم میں ایک سوال تھا کہ ’کیا آپ کی گاڑی 10 سال سے کم عرصے کی ہے؟‘ جس پر انہوں نے ’نہیں‘ کا جواب دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’اے آئی‘ انقلاب: خواتین اور دفتری ملازمین کی نوکریاں خطرے میں، اقوام متحدہ کی وارننگ
ایجنسی کی جانب سے بھیجے گئے ای میل میں کہا گیا کہ انہیں انٹرویو کے لیے شارٹ لسٹ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ملازمین کے لیے اپنی گاڑی کا 10 سال سے کم عمر ہونا لازمی شرط ہے، یہ پالیسی ملازمین کی ذاتی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہے خاص طور پر جب وہ اکثر اکیلے اور طویل فاصلہ طے کرتے ہیں۔
ایلانہ نے کہا کہ انہوں نے £2,800 بچا کر مئی 2025 میں ایک 2014 کی Citroen C1 خریدی تھی جس کا ایک ہی پچھلا مالک تھا، گاڑی 40,000 میل سے کم چلی تھی اور اس میں کوئی تکنیکی مسئلہ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے باعث زیادہ متاثر ہونے والی نوکریاں کون سی ہیں؟
ان کی والدہ، جینی فرنچ نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع پہلے ہی محدود ہیں اور اس طرح کی پالیسیاں انہیں مزید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ جبکہ ایلانہ نے کہا کہ وہ اب بھی پراپرٹی سیکٹر میں کیریئر بنانے کی خواہشمند ہیں اور روزانہ نئی ملازمتوں کے لیے درخواست دے رہی ہیں۔














