امریکا میں فنڈنگ کے تنازع کے باعث ایئرپورٹ سیکیورٹی عملہ مشکلات کا شکار ہوگیا، ٹیکنالوجی کمپنی کے سربراہ ایلون مسک نے ان کی تنخواہیں ادا کرنے کی پیشکش کر دی، جس نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایلون مسک ٹوئٹر شیئر ہولڈرز کو دھوکا دینے کے الزام میں ذمہ دار قرار
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کی فنڈنگ تعطل کا شکار ہونے کے باعث ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (TSA) کے اہلکار گزشتہ کئی ہفتوں سے بغیر تنخواہ کام کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ایئرپورٹس پر سیکیورٹی چیکنگ کے دوران طویل قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ وہ اس بحران کے دوران TSA عملے کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کم کی جا سکیں۔
Fox News shows "lines stretching outside the terminal" at Austin-Bergstrom International Airport.
"TSA has been spread thin as agents call out during the partial government shutdown."
Today, 100,000 DHS workers will not get paid thanks to the Democrats.
Democrats need to stop… pic.twitter.com/XOk2xxEaS9
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) March 13, 2026
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فنڈنگ کا مسئلہ حل نہ ہوا تو امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکاروں کو ایئرپورٹس پر سیکیورٹی کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق TSA میں تقریباً 65 ہزار ملازمین کام کرتے ہیں، تاہم فنڈنگ بحران کے باعث اب تک 300 سے زائد اہلکار ملازمت چھوڑ چکے ہیں جبکہ کئی دیگر اضافی نوکریاں کرنے یا امداد لینے پر مجبور ہیں۔
Musk offers to pay salaries of US airport security workers https://t.co/ZpxpnqafWH
— Citizen TV Kenya (@citizentvkenya) March 21, 2026
امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس نے DHS کی فنڈنگ کی منظوری کو امیگریشن پالیسی میں تبدیلیوں سے مشروط کر رکھا ہے، جس کے باعث یہ تعطل برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ بحران مزید طول پکڑتا ہے تو نہ صرف ایئرپورٹ سیکیورٹی متاثر ہوگی بلکہ مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔














