سولر پینلز کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ: کیا یہ عالمی اور مقامی عوامل کا ملٹی لیئرڈ اثر ہے؟

اتوار 29 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں کے باعث جہاں سولر انرجی کی طرف رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، وہیں حالیہ دنوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ صارفین کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

مارکیٹ میں قیمتوں کا مسلسل اتار چڑھاؤ اور تیزی سے اضافہ ایک نیا سوال کھڑا کر رہا ہے کہ آخر اس اضافے کے پیچھے اصل وجوہات کیا ہیں؟ کیا یہ صرف مقامی مارکیٹ کا دباؤ ہے، سیزنل ڈیمانڈ کا نتیجہ ہے یا پھر اس کے پیچھے کوئی بڑی عالمی تبدیلی کارفرما ہے؟

مزید پڑھیں: سولر صارفین کے لیے خوشخبری، وفاقی حکومت نے بڑا اعلان کردیا

قیمیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو رہی ہیں، شرجیل احمد سلہری

سولر انڈسٹری کے ماہر شرجیل احمد سلہری کے مطابق حالیہ دنوں میں سولر مارکیٹ غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، جہاں قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو رہی ہیں اور عمومی رجحان مسلسل اضافے کی طرف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر مارکیٹ میں کم از کم 10 سے 15 فیصد اضافہ دیکھا جا چکا ہے، جبکہ صرف سولر پینلز کی قیمتوں میں یہ اضافہ 20 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو ایک نمایاں اور تشویشناک رجحان ہے۔

انہوں بے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس اضافے کے پیچھے کوئی ایک تکنیکی یا سیزنل فیکٹر کارفرما نہیں، بلکہ یہ مکمل طور پر کاسٹ پریشر کا نتیجہ ہے۔ عالمی اور مقامی سطح پر فریٹ چارجز میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس میں شپنگ، لاجسٹکس اور ہینڈلنگ کے اخراجات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ درآمدی لاگت میں اضافہ، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین میں عدم استحکام نے بھی قیمتوں کو اوپر دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

طلب اور رسد کے درمیان توازن بگڑ چکا ہے

ان کے مطابق مارکیٹ اس وقت ایک ٹرانزیشنل فیز میں ہے جہاں طلب اور رسد کے درمیان توازن بگڑ چکا ہے، اور اسی وجہ سے قیمتیں مستحکم ہونے کے بجائے مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔

شرجیل احمد سلہری کہتے ہیں کہ موجودہ اضافے کو وقتی سیزنل ڈیمانڈ سے جوڑنا درست نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک وسیع تر معاشی اور لاجسٹک دباؤ کا نتیجہ ہے جو پوری انڈسٹری کو متاثر کررہا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر صارفین اور انسٹالیشن مارکیٹ پر پڑے گا۔

ایک مزید سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پہلے 3 کلو واٹ کے سولر پینلز کا پورا خرچہ صرف ڈیڑھ لاکھ روپے تھا، جبکہ 5 کلو واٹ والا اڑھائی لاکھ روپے میں مل جاتا تھا۔ اب قیمتیں کافی بڑھ گئی ہیں۔ اگر آپ آج 3 کلو واٹ کا اچھا سولر سسٹم لگانا چاہیں (پینلز، انورٹر، لوہے کا سٹینڈ اور انسٹالیشن سمیت) تو اس کا کل خرچہ قریباً 3 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ 50 ہزار روپے تک پڑ سکتا ہے۔

ان کے مطابق اسی طرح 5 کلو واٹ کا سسٹم لگوانے میں 6 لاکھ سے 8 لاکھ 50 ہزار روپے تک لگ سکتے ہیں۔ یہ قیمت اس بات پر بھی منحصر ہے کہ آپ کا گھر کہاں ہے، چھت پر کس قسم کا اسٹینڈ لگے گا، کون سا انورٹر لگائیں گے اور نیٹ میٹرنگ (بجلی واپس بیچنے والا میٹر) لگوانا ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہاکہ اگر مہنگائی اور فیول کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا رہا تو اگلے چند مہینوں میں یہ قیمتیں اور بھی زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔

سولر پینلز کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ مقامی یا وقتی عوامل کا نتیجہ نہیں، نور بادشاہ

اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے سولر مارکیٹ سے وابستہ ماہر انجینئر نور بادشاہ کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ محض مقامی یا وقتی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑی بین الاقوامی پالیسی تبدیلی کارفرما ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی بنیادی وجہ چین کی ایکسپورٹ پالیسی میں حالیہ تبدیلی ہے، جس نے عالمی سولر مارکیٹ کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چین دنیا بھر میں سولر پینلز کا سب سے بڑا سپلائر ہے، اور پاکستان کی مارکیٹ بھی بڑی حد تک چینی درآمدات پر انحصار کرتی ہے۔ چین کی جانب سے یکم اپریل 2026 سے سولر مصنوعات پر دیا جانے والا قریباً 9 فیصد وی اے ٹی (VAT) ایکسپورٹ ریبیٹ مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے، جس کے باعث مینوفیکچررز کی لاگت میں واضح اضافہ ہوگا۔

انجینیئر نور بادشاہ کے مطابق اس پالیسی تبدیلی کے اثرات فوری طور پر مارکیٹ میں نظر آنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں سولر پینلز کی قیمتوں میں قریباً 10 روپے فی واٹ تک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو قریبی دنوں میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور 50 روپے فی واٹ کی سطح کو بھی کراس کرنے کا امکان موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ یہ اضافہ کسی سیزنل ڈیمانڈ یا عارضی مارکیٹ فیکٹر کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک اسٹرکچرل تبدیلی ہے، جو آئندہ مہینوں میں بھی سولر انڈسٹری کی قیمتوں اور سپلائی چین کو متاثر کرتی رہے گی۔

درآمدی اشیا کی قیمتیں مسلسل دباؤ میں ہیں، محمد گلباز

گزشتہ 10 برسوں سے سولر انسٹالیشن بزنس سے وابستہ محمد گلباز کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ سولر پینلز کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایک ملٹی لیئرڈ کرائسس کا نتیجہ ہے، جس میں مقامی مارکیٹ، عالمی سپلائی چین اور پالیسی لیول کی تبدیلیاں بیک وقت اثر انداز ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جیسے امپورٹ بیسڈ مارکیٹ میں قیمتوں کا تعین مقامی نہیں بلکہ عالمی رجحانات کے تابع ہوتا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں نہ صرف مینوفیکچرنگ لاگت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ سپلائی چین میں غیر یقینی صورتحال بھی برقرار ہے، جس کی وجہ سے درآمدی اشیا کی قیمتیں مسلسل دباؤ میں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر میں کمی اس دباؤ کو مزید بڑھا دیتی ہے، جس کا براہِ راست اثر سولر پینلز اور دیگر آلات کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایک اور اہم پہلو جو سامنے آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ مارکیٹ میں اس وقت anticipatory pricing دیکھنے کو مل رہی ہے، یعنی ڈسٹری بیوٹرز اور امپورٹرز مستقبل میں متوقع لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے ہی قیمتیں بڑھا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ منظور کرلیا، فی یونٹ کتنے پیسے بڑھ گئے؟

ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ قیمتوں میں اضافہ بعض اوقات حقیقی لاگت سے بھی پہلے نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔

قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے

ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ سولر مارکیٹ اس وقت ایک ری ایڈجسٹمنٹ فیز سے گزر رہی ہے۔ مگر آئندہ چند مہینوں میں قیمتوں میں کچھ حد تک مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کے پی ٹی اور رومانیہ کی بندرگاہ قسطنطہ کے درمیان تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط

ہتک عزت مقدمہ: علی ظفر کی سیشن عدالت میں کامیابی، میشا شفیع کا لاہور ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ

ایران معاہدے پر راضی نہ ہوا تو جنگ مزید شدت سے جاری رکھی جائے گی، امریکی وزیر دفاع کی دھمکی

کوئٹہ: بجلی چوری اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائیاں، اعداد و شمار جاری

عمران خان کے بیٹوں نے پاکستان کے خلاف بات کی تو سپورٹ نہیں کریں گے، بیرسٹر گوہر

ویڈیو

گلگت بلتستان کے گاؤں سے وطن سے محبت اور آزادی کی قدر کا پیغام

پاکستان میں مہنگے فیول نے کیب ڈرائیورز اور مسافروں کو بھی مشکل میں ڈال دیا

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بیجنگ پہنچ گئے، ایران پر بات کریں گے: چین

کالم / تجزیہ

پاکستان کا فیصلہ کیا ہوگا؟

ہم بہت خوش نصیب ہیں، ہم بہت بدنصیب ہیں

ایک حادثہ جس نے میڈیا کی بلوغت کا ثبوت دیا