واشنگٹن سے مضبوط تعلقات اور ایران تنازع کے حل میں قائدانہ کردار، وال اسٹریٹ جنرل پاکستان کی مؤثر سفارتی کامیابیوں کا معترف

اتوار 29 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان، جسے کبھی واشنگٹن کی جانب سے اسامہ بن لادن کی موجودگی کے باعث تنقید اور تنہائی کا سامنا رہا، اب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اسلام آباد نے نہ صرف امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ رابطوں میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کے مابین ثالثی: پاکستان کے نمایاں کردار پر بھارت میں ہنگامہ، کانگریس نے مودی حکومت کو دھو ڈالا

وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق امریکا کا 15 نکاتی امن منصوبہ ایران تک پہنچانے میں پاکستان نے بیک چینل سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ امریکی مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ پیغام پاکستانی تعاون سے منتقل کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق یہ رابطہ سفارتی چینلز کے ذریعے ممکن بنایا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کو نمایاں انداز میں سراہا، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح تبدیلی کی علامت قرار دی جارہی ہے۔

ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں پاکستان پر سخت تنقید کی گئی تھی، تاہم اب وائٹ ہاؤس حکام پاکستان کو خطے میں اہم شراکت دار قرار دے رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف تعاون، توانائی، اہم معدنیات اور سیکیورٹی امور میں پاکستان کے ساتھ قریبی روابط قائم کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی، مصری اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اسلام آباد میں، خطے کی صورتحال پر اہم اجلاس

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی میں پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت نے اہم کردار ادا کیا، خصوصاً آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی سرگرم سفارت کاری کو تعلقات کی بحالی میں فیصلہ کن عنصر سمجھا جا رہا ہے۔

ایران، جو پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، اسلام آباد کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات رکھتا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز سے 20 پاکستانی جہازوں کو گزرنے کی اجازت بھی دی، جسے دونوں ممالک کے اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

اگرچہ ایران نے امریکی امن منصوبہ مسترد کرتے ہوئے اپنا 5 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے، تاہم پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ ثالث ممالک کا ابتدائی اجلاس اسلام آباد میں متوقع ہے تاکہ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: 4ملکی ثالثی کانفرنس کی میزبانی ترکیہ کے بجائے پاکستان کو کیوں ملی؟ ترک وزیر خارجہ نے بتادیا

سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے مطابق پاکستان کے لیے یہ صورتحال سفارتی لحاظ سے فائدہ مند ہے کیونکہ عالمی سطح پر تنہائی کا تاثر ختم ہو کر ملک دوبارہ مرکزی کردار میں آ گیا ہے۔ تاہم بعض ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان توازن برقرار رکھنا پاکستان کے لیے ایک مشکل سفارتی امتحان بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

ایران کی قیادت کے خلاف کارروائیوں کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں امریکا مخالف مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے، جس سے حکومت پر تنازع کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنے کا دباؤ بڑھا۔ اسی دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے نے بھی اسلام آباد کی سفارتی حکمت عملی کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے متعدد سفارتی اقدامات کیے، جن میں دہشت گردی کے خلاف تعاون، علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں اور اقتصادی منصوبوں میں شمولیت شامل ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنا بھی تعلقات میں گرمجوشی کی ایک علامت سمجھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششیں قابل تعریف ہیں، چین

ماہرین کے مطابق پاکستان براہِ راست مذاکرات کا فریق بننے کے بجائے سہولت کار یا بیک چینل ثالث کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، جیسا کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران طالبان مذاکرات میں دیکھا گیا تھا۔

آئندہ ہفتے اسلام آباد میں سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کی متوقع ملاقات کو امریکا اور ایران کے ممکنہ مذاکرات کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں تنازع کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی کابینہ اجلاس: اراکین کا امریکا ایران جنگ بندی پر وزیراعظم، وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین

’پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد‘: محمود اچکزئی کا حکومت کی غیرمشروط حمایت کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف کا مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش

پی ایس ایل 11، حیدر آباد کنگز مین کی پشاور زلمی کے خلاف بیٹنگ جاری

پی ٹی آئی کا لیاقت باغ میں جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟