مصنوعی ذہانت کی غلطی، خاتون کو 5 ماہ جیل کاٹنا پڑی؟

پیر 30 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی خاتون کو مصنوعی ذہانت کی وجہ سے 5 ماہ سے زائد عرصہ جیل میں رہنا پڑا۔ پولیس نے مصنوعی ذہانت (AI) سے چہرہ پہچان کے ذریعے انہیں نارتھ ڈکوٹا میں ہونے والے جرائم سے جوڑ دیا، جس ریاست میں ان کا کہنا ہے کہ وہ کبھی نہیں گئیں۔

مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب، چین کی سیمی کنڈکٹر صنعت میں غیر معمولی تیزی

پولیس نے کیس میں کچھ غلطیوں کا اعتراف کیا اور کارروائی میں تبدیلیوں کا عندیہ دیا، مگر براہِ راست معافی نہیں دی۔ 50 سالہ اینجلا لپس، پہلی بار 14 جولائی کو ٹینیسی میں گرفتار ہوئیں، پولیس نے مصنوعی ذہانت (AI) چہرہ پہچان ٹیکنالوجی اور دیگر تحقیقات کے ذریعے انہیں بطور مشتبہ شناخت کیا۔

وارنٹ جاری ہونے کے بعد لپس کو نارتھ ڈکوٹا منتقل کیا گیا، جہاں انہیں متعدد الزامات، بشمول بینک فراڈ اور شناختی معلومات کے غیر مجاز استعمال، کا سامنا تھا۔ بعد میں ان کے وکیل نے بینک ریکارڈز کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ اس وقت وہ ٹینیسی میں موجود تھیں۔

12 دسمبر کو ممکنہ شواہد پیش کیے گئے اور 23 دسمبر کو عدالت نے الزامات کو مزید تحقیقات کے لیے بغیر فیصلہ ختم کرنے کا حکم دیا۔ لپس کو کرسمس پر رہا کیا گیا۔

لپس نے بتایا کہ یہ تجربہ خوفناک، تھکا دینے والا اور ذلیل کرنے والا تھا اور وہ نارتھ ڈکوٹا کبھی واپس نہیں جائیں گی۔ ان کے وکلا نے کہا کہ پولیس نے بنیادی تحقیقات کیے بغیر مصنوعی ذہانت (AI) کا سہارا لیا، جس کی وجہ سے ایک معصوم خاتون کو غلط طور پر گرفتار کیا گیا۔

مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کو لگام: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے آئی پالیسی جاری کردی

فارو پولیس کے چیف نے کہا کہ انہوں نے چند غلطیوں کی نشاندہی کی ہے اور مستقبل میں مصنوعی ذہانت (AI) شناخت کے معاملات کو زیادہ نگرانی کے ساتھ چلانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وکلا نے اس معاملے میں سول حقوق کے دعوؤں پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp