نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینٹر محمد اسحاق ڈار نے 31 مارچ تا یکم اپریل 2026 کو بیجنگ کا سرکاری دورہ کیا، جس میں چینی وزیرِ خارجہ نے انہیں مدعو کیا تھا۔ ملاقات روایتی گرمجوشی اور دوستانہ ماحول میں ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا میں خطے کی صورتِ حال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔
نائب وزیراعظم ووزیرِ خارجہ نے وزیرِ خارجہ ونگ یی کو تفصیل سے پاکستان کی جانب سے جاری تنازع ختم کرنے اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں، بشمول حالیہ اسلام آباد اجلاس جس میں سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ شریک تھے، سے آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار نے چین میں قیام کیوں بڑھایا؟ وجہ سامنے آگئی
دونوں رہنماؤں نے خطے میں سلامتی کے ماحول کا جائزہ لیا اور ترقی پذیر ممالک پر اس کے سنگین سماجی و اقتصادی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس پس منظر میں انہوں نے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے 5 پہل کا آغاز کیا۔
چینی وزیرِ خارجہ ونگ یی نے پاکستان کے فعال سفارتی کردار اور مغربی ایشیا میں امن کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کی تعریف اور حمایت کا اظہار کیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات میں بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا اور CPEC 2.0 کے تحت اعلیٰ معیار کی ترقی اور اسٹریٹجک تعاون کو آگے بڑھانے، اعلیٰ سطحی تبادلے اور رابطے کو مضبوط کرنے پر زور دیا، جبکہ اس سال دوطرفہ تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کا موقع بھی منایا جا رہا ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے وزیرِ خارجہ ونگ یی کی جانب سے دی گئی شاندار مہمان نوازی اور گرم جوشی کے لیے دلی شکریہ ادا کیا۔ فریقین نے افغانستان میں امن و استحکام اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ممالک نے باقاعدہ رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔













