بھارتی فلم انڈسٹری کی چند فلمیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں مداح ان کی اصل شکل میں ہی دیکھنا پسند کرتے ہیں اور ان کے ری میک یا سیکوئل کو خطرہ سمجھتے ہیں، تاہم جب عامر خان نے یہ اعلان کیاکہ ہدایتکار راج کمار ہیرانی فلم ’تھری ایڈیٹس‘ کے دوسرے حصے پر کام کررہے ہیں، جس کی کہانی پہلی فلم کے اختتام کے 10 برس بعد سے شروع ہوگی، تو شائقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
2009 میں ریلیز ہونے والی اس کامیڈی اور ڈرامہ فلم نے بھارتی سینما میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی تھی اور آج بھی اسے یادگار فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستانی نژاد امریکی نوجوان نے بالی ووڈ فلم ‘تھری ایڈیٹس’ کے لیے پورا تھیٹر بک کرلیا
وجے اور ’تھری ایڈیٹس‘ کا دلچسپ تعلق
تامل ناڈو کے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف اٹھانے کے بعد ان دنوں اداکار تھلاپتی وجے خبروں میں ہیں، اور اسی موقع پر ان کی فلم ’نن بن‘ دوبارہ موضوعِ بحث بن گئی ہے، جو ’تھری ایڈیٹس‘ کا تامل ری میک تھی۔
اس فلم میں وجے نے عامر خان کے مشہور کردار ’رانچھو‘ کے تامل روپ ’پنچاون پریویندھن‘ کا کردار ادا کیا، جسے فلم میں ’پاری‘ بھی کہا جاتا ہے۔
جس طرح ’تھری ایڈیٹس‘ میں عامر خان نے رانچھو کے کردار کے ذریعے معاشرتی دباؤ اور روایتی تعلیمی نظام کو چیلنج کیا تھا، اسی طرح وجے نے بھی ایک آزاد خیال، فلسفیانہ سوچ رکھنے والے نوجوان کا کردار نبھایا جو صرف نمبروں اور ڈگری کے بجائے حقیقی علم پر یقین رکھتا ہے۔
’نن بن‘ کے کردار اور کہانی
فلم ’نن بن‘ میں الیانا ڈی کروز مرکزی خاتون کردار میں نظر آئیں جبکہ ’تھری ایڈیٹس‘ میں یہ کردار کرینہ کپور نے ادا کیا تھا۔
’تھری ایڈیٹس‘ میں بومن ایرانی نے سخت گیر پرنسپل ڈاکٹر ویرو سہسٹر بدھے المعروف ’وائرس‘ کا کردار ادا کیا تھا، جبکہ ’نن بن‘ میں ستیہ راج نے اسی نوعیت کے کردار ’ویروماندی سنتھانم‘ کو نبھایا۔
رانچھو کا مشہور مکالمہ
’کامیابی کے پیچھے مت بھاگو، قابل بنو، کامیابی خود تمہارے پیچھے آئے گی۔‘
یہ فلم کا سب سے طاقتور پیغام سمجھا جاتا ہے، اور یہی سوچ ’نن بن‘ میں وجے کے کردار میں بھی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
تعلیم کے روایتی نظام کے خلاف بغاوت
وجے کا کردار ’پنچاون‘ ایک غیر معمولی انجینیئرنگ طالب علم ہوتا ہے جو سخت تعلیمی نظام کے سامنے جھکنے کے بجائے عملی سیکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔
جس طرح ’تھری ایڈیٹس‘ میں رانچھو کے دوست فرحان قریشی اور راجو رستوگی اس کے نظریات سے متاثر ہوتے ہیں، اسی طرح ’نن بن‘ میں جیوا اور سری کانتھ بھی اس کے قریبی دوست بنتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو نئے انداز سے دیکھنا سیکھتے ہیں۔
فلم میں دوستی، خوابوں کی تعبیر اور دل کی آواز سننے کا پیغام نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
فرضی شناخت کا دلچسپ موڑ
’تھری ایڈیٹس‘ کی طرح ’نن بن‘ میں بھی مرکزی کردار فرضی شناخت کے ساتھ تعلیم حاصل کرتا ہے۔
اصل فلم میں عامر خان ایک غریب یتیم لڑکے کے طور پر سامنے آتے ہیں جسے ایک امیر خاندان اپنے بیٹے کے نام پر تعلیم دلوانے کے لیے مالی مدد فراہم کرتا ہے، بعد ازاں وہ دنیا بھر میں مشہور سائنسدان اور مؤجد بن جاتا ہے۔
اسی طرح ’نن بن‘ میں وجے کا کردار بھی برسوں بعد ایک دور دراز مقام پر بچوں کے لیے اسکول چلاتے اور مشہور مؤجد کے طور پر سامنے آتا ہے۔
وجے نے ’ماس ہیرو‘ کی شبیہ کیسے بدلی؟
فلم کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ وجے نے اپنی روایتی ’ماس ہیرو‘ والی شخصیت سے ہٹ کر ایک سادہ، سنجیدہ اور حقیقت کے قریب نوجوان کا کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزاحیہ مناظر میں بھی غیر ضروری مبالغے کے بجائے فطری اداکاری کا مظاہرہ کیا، جسے ناقدین اور شائقین دونوں نے بے حد سراہا۔
جنوبی بھارتی رنگ میں ڈھالی گئی کہانی
ہدایتکار ایس شنکر نے ’تھری ایڈیٹس‘ کے اصل جادو کو برقرار رکھتے ہوئے ’نن بن‘ کو جنوبی بھارتی ثقافت کے مطابق ڈھالا۔
فلم کے مکالموں، مزاح، کالج کے ماحول اور روزمرہ حالات کو اس انداز میں پیش کیا گیا کہ تامل ناظرین خود کو کہانی کے قریب محسوس کر سکیں۔
دونوں فلموں کی تاریخی کامیابی
’تھری ایڈیٹس‘ کو آج بھی بھارتی سینما کی بہترین فلموں میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ ’نن بن‘ کو کامیاب ترین ری میکس میں جگہ حاصل ہے۔
مزید پڑھیں: وکی کوشل کی ‘تھری ایڈیٹس 2’ میں شمولیت، عامر خان، آر مادھون اور شرمن جوشی کے ساتھ جلوہ گر ہونے کا امکان
فلم نے باکس آفس پر 125 کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار کیا اور یہ ثابت کیا کہ اچھی کہانی زبان کی محتاج نہیں ہوتی۔
یہی وجہ ہے کہ ’تھری ایڈیٹس‘ اور ’نن بن‘ دونوں آج بھی شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔














