دفاع پاکستان کونسل کے زیراہتمام اسلام آباد میں ہونے والے استحکامِ پاکستان کنونشن میں کہا گیا ہے کہ قومی مفاد کو ہر قسم کی بیرونی وابستگی پر مقدم رکھا جائے۔
کنونشن میں ملک بھر کی مذہبی، سیاسی اور سماجی قیادت نے بھرپور شرکت کی، جس کی صدارت قائد اہلِ سنت علامہ محمد احمد لدھیانوی نے کی۔
کنونشن میں مولانا فضل الرحمان خلیل (امیر انصار الامہ پاکستان)، عبداللہ گل (چیئرمین تحریک جوانان پاکستان)، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر (چیئرمین قرآن و سنت موومنٹ پاکستان)، مولانا ڈاکٹر محمد علی تراب (قائم مقام امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان)، مولانا عبد الحق ثانی، مفتی حبیب الرحمان درخواستی (جمعیت علمائے اسلام)، مولانا مظہر سعید شاہ (رکن آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی) نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ مولانا اورنگزیب فاروقی صدر سنی علما کونسل، سید یوسف شاہ، اجمل بلوچ، مولانا سید عتیق الرحمان شاہ، حکیم محمد ابراہیم قاسمی سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔
مقررین نے اس امر پر اتفاق کیاکہ موجودہ حالات قومی سطح پر سنجیدہ غور و فکر اور مشترکہ حکمتِ عملی کے متقاضی ہیں۔
شرکا نے پاکستان کو درپیش داخلی چیلنجز، خصوصاً دہشتگردی اور پاک افغان سرحدی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور افواجِ پاکستان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
شرکا نے مشرق وسطیٰ جنگ کے تناظر میں حکومتِ پاکستان کے اصولی، متوازن اور ذمہ دارانہ مؤقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو سراہا۔
شرکا نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے محتاط اور دانشمندانہ طرزِ عمل کو مثبت قرار دیا، جبکہ ایران کی جانب سے خطے کے دیگر ممالک، خصوصاً سعودی عرب، کو نشانہ بنانے کے اقدامات کو خطرناک اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی۔
شرکا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے ریاستی اداروں کا استحکام، وقار اور دفاع ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور کسی بھی منفی مہم یا اشتعال انگیزی کو قومی وحدت کے خلاف اقدام سمجھا جائے گا۔
کنونشن نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے مختلف مکاتبِ فکر کے ساتھ مکالمے کے عمل کو سراہتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا۔
متفقہ اعلامیہ میں قومی یکجہتی، علاقائی امن اور پاکستان کی خودمختاری و سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
شرکا نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریقین ذمہ داری اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطے کو امن، استحکام اور باہمی احترام کی راہ پر گامزن کریں گے۔














