فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے مسلح ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے ہتھیار پھینکنے کے مطالبات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مطالبہ دراصل اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری کارروائیوں کو جاری رکھنے کی کوشش ہے۔
مزید پڑھیں: پاک افغان تنازع: فریقین بات چیت کا راستہ اختیار کریں، حماس کا مشورہ
ایک ٹی وی بیان میں ابو عبیدہ نے کہا کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر مکمل عملدرآمد سے قبل اسلحہ چھوڑنے کی بات چیت ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے مطالبات فلسطینی عوام کے خلاف جاری کارروائیوں کو طول دینے کے مترادف ہیں۔
یہ معاملہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ منصوبے میں ایک بڑی رکاوٹ بن گیا ہے، جس میں حماس کے غیر مسلح ہونے کی شرط بھی شامل ہے۔ حماس نے ثالثوں کو واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک اس موضوع پر بات نہیں کرے گی جب تک اسرائیل غزہ سے مکمل انخلا کی ضمانت نہیں دیتا۔
رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، جن میں سینکڑوں فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ابو عبیدہ نے اپنے بیان میں خطے کی وسیع صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے ایران اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی، جبکہ حزب اللہ اور دیگر اتحادی گروپوں کی کارروائیوں کو سراہا۔
مزید پڑھیں:غزہ میں امن کا راستہ اسرائیلی جارحیت کے خاتمے سے مشروط ہے، حماس
تجزیہ کاروں کے مطابق حماس کا یہ مؤقف غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، جہاں جنگ بندی، انخلا اور سیکیورٹی ضمانتیں اہم نکات بن چکے ہیں۔














