ایک کروڑ روپے تک قرض لے کر اپنا گھر بنائیں، وزیراعظم کی ’میرا گھر میرا آشیانہ‘ اسکیم کیا ہے؟

منگل 7 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ستمبر 2025 میں وفاقی حکومت کے تعاون سے ’میرا گھر میرا آشیانہ‘ اسکیم متعارف کرائی تھی۔ یہ مارک اپ سبسڈی اور رسک شیئرنگ اسکیم ہے جس کا مقصد کم اور درمیانی آمدنی والے شہریوں کو گھر، فلیٹ، پلاٹ خریدنے یا تعمیر کرنے کے لیے سستے قرضے فراہم کرنا ہے۔

فروری 2026 میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے بعد اسکیم میں تبدیلیاں کی گئیں، جن کے تحت قرض کی حد اور رہائشی یونٹ کے سائز میں توسیع کردی گئی۔

مزید پڑھیں: اپنا گھر ہر شہری کا حق اور آسان شرائط پر قرض کی فراہمی حکومتی ترجیح ہے، وزیرِ اعظم

اسکیم کے تحت قرض کی زیادہ سے زیادہ حد اب ایک کروڑ روپے تک ہے۔ پہلے 10 سال تک حکومت مارک اپ سبسڈی دے گی جس کے نتیجے میں صارفین کو فلیٹ 5 فیصد ریٹ ادا کرنا ہوگا۔ 10 سال کے بعد بینک تین فیصد کائیبور اگلے 10 سال کے لیے قسط میں اضافی لگائے گا۔

اس اسکیم میں کوئی پروسیسنگ فیس یا قبل از وقت ادائیگی نہیں ہے، حکومت بینکوں کے پورٹ فولیو کے پہلے نقصان پر 10 فیصد رسک شیئر کرے گی۔ اس سے پہلے اس سکیم کے تحت 20 سے 35 لاکھ روپے گھر کی تعمیر کے لیے دیے جارہے تھے، جو اب بڑھا دیے گئے۔

اسکیم کے تحت گھر کی خریداری، فلیٹ کی خریداری، اپنے پلاٹ پر تعمیر اور پلاٹ خرید کر تعمیر کے لیے فنانسنگ حاصل کی جا سکتی ہے۔ اہل یونٹس اب 10 مرلہ تک کے گھر اور 1500 مربع فٹ تک کے فلیٹ شامل ہیں۔

تمام کمرشل بینک، اسلامی بینک، مائیکرو فنانس بینک اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی اس اسکیم میں شامل ہیں۔

اسکیم کے لیے کون سے افراد اہل ہیں؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سرکلر کے مطابق صارف پاکستانی شہری ہو، جس کے پاس درست کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ہو، کسی بینک یا کسی اور اسکیم سے لون نہ لیا ہو۔

درخواست گزار کے نام پر پہلے سے کوئی رہائشی یونٹ گھر، فلیٹ یا پلاٹ موجود نہ ہو۔ ایک فرد اس اسکیم کے تحت صرف ایک مرتبہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ سرکاری ملازمین یا پرائیویٹ ملازمین بھی اس اسیکم سے فائدہ اٹھانے کے لیے اہل ہیں۔

اسکیم میں آمدنی کی کوئی مخصوص حد یا عمر کی پابندی نہیں بتائی گئی۔ اہل افراد بینکوں میں درخواست دے سکتے ہیں جہاں دستاویزات کی تصدیق کے بعد قرض منظور کیا جائے گا۔

اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسکیم کی تفصیلات عوام تک پہنچائیں۔

نئی ہاؤسنگ اسیکم عمران خان دور کی ’میرا پاکستان میرا گھر‘ سے کتنی مختلف ہے؟

وفاقی حکومت کی نئی اسکیم ’میرا گھر میرا آشیانہ‘ جو 26-2025 میں شروع کی گئی ہے اور عمران خان کے دور کی ’میرا پاکستان میرا گھر‘ اسکیم جو 2020 میں شروع ہوئی، دونوں کا مقصد کم آمدنی والے افراد کو سستے قرضوں پر گھر دینا ہے، مگر دونوں اسکیموں میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے۔

نئی اسکیم میں قرض کی حد ایک کروڑ روپے تک بڑھا دی گئی ہے۔ پرانی اسکیم میں پہلے 3 سے 5 ملین روپے ملتے تھے، لیکن بعد میں اس کو بھی اپ گریڈ کرکے ایک کروڑ تک کردیا گیا۔

’میرا پاکستان میرا گھر‘ اسیکم میں 5 سے 10 مرلہ پلاٹ پر تعمیر یا نیا گھر بنانے کے لیے قرض دیا جارہا تھا، نئی اسکیم میں بھی 5 سے 10 مرلہ گھر کی تعمیر کے لیے قرض مل سکتا ہے۔ نئی اسکیم میں فلیٹس کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ ’میرا پاکستان میرا گھر‘ میں ایسا نہیں تھا۔

سود کی شرح نئی اسکیم میں پہلے 10 سال 5 فیصد رہے گی اور 10 سال کے بعد سود کی شرح تبدیل ہوگی، جبکہ پرانی اسکیم میں مختلف شرحیں 3 سے 9 فیصد تھیں۔

مزید پڑھیں: ’اپنی چھت اپنا گھر پروگرام‘، صوبہ بھر میں 17 ہزار 957 گھروں کی تعمیر مکمل

نئی اسکیم میں 90 فیصد قرض اور 10 فیصد خود ادائیگی کی سہولت ہے، کوئی پروسیسنگ فیس نہیں اور حکومت 10 فیصد نقصان کی ذمہ داری اٹھائے گی جو پرانی اسکیم میں نہیں تھا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ نئی اسکیم پرانی سے بہتر اور عوام کے لیے زیادہ لچکدار ورژن ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کب اور کہاں سجے گا سٹار کھلاڑیوں کا میلہ؟ پی سی بی کے دھماکے دار ٹورنامنٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں

یوٹیوب پر نوعمر صارفین کو مضر ویڈیوز کی سفارش، نئی تحقیق میں تشویشناک انکشاف

اسحاق ڈار کی زیر صدارت سول ایوارڈز کے لیے نامزدگیوں کا جائزہ، شفاف اور میرٹ پر مبنی عمل جاری رکھنے پر زور

بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کے سلسلے میں مظفرآباد پہنچ گئے، کوہالہ پل پر پرتپاک استقبال

راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ، سیکیورٹی اہلکار شہید، ایک زخمی

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم