چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی توانائی بحران کے تناظر میں ملک کی توانائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے نئے توانائی نظام کی منصوبہ بندی اور تعمیر کو تیز کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق صدر شی جن پنگ نے پن بجلی کے فروغ، ماحولیاتی تحفظ، اور جوہری توانائی کے محفوظ و منظم پھیلاؤ پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘پارٹی کی مرکزی قیادت نے عالمی توانائی کے رجحانات کو گہرائی سے سمجھتے ہوئے نئی توانائی سلامتی حکمت عملی کو آگے بڑھانے کے اہم فیصلے کیے ہیں’۔
یہ بھی پڑھیے: ایران جنگ کی غیر یقینی صورتحال، عالمی توانائی مارکیٹس میں ہلچل
اگرچہ صدر شی نے اپنے بیان میں براہِ راست ایران جنگ کا ذکر نہیں کیا، تاہم یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں ہلچل پیدا ہو چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق چین عالمی سطح پر بڑھتی تیل کی قیمتوں کے اثرات کو نسبتاً بہتر انداز میں برداشت کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ ملک کی توانائی کا نصف سے زائد حصہ اب بھی کوئلے پر مشتمل ہے جبکہ اس کے پاس تیل کے وافر ذخائر موجود ہیں۔
صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ‘ہوا اور شمسی توانائی میں ابتدائی سرمایہ کاری ہماری دور اندیشی کا ثبوت ہے، تاہم کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو توانائی نظام کی بنیاد کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنا ہوگا’۔
چین اس وقت دنیا میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث اسے سب سے بڑا کاربن اخراج کرنے والا ملک بھی سمجھا جاتا ہے۔ صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین کو کم کاربن اور صاف توانائی کے اہداف پر قائم رہنا ہوگا۔ ان کے مطابق ‘ایک سبز، متنوع اور مضبوط توانائی نظام نہ صرف توانائی سلامتی بلکہ معاشی ترقی کی بھی ضمانت ہوگا’۔
یہ بھی پڑھیے: مذاکرات جلد کامیاب نہ ہوئے تو ایران کے توانائی مراکز کو نشانہ بنائیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
گزشتہ برس چین نے تبت کے سطح مرتفع کے مشرقی کنارے پر دنیا کے سب سے بڑے پن بجلی ڈیم کی تعمیر شروع کی تھی، جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے سنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق 4,550 میٹر کی بلندی پر شمسی حرارتی بجلی گھر کی تعمیر کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین بیک وقت روایتی اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ایک متوازن حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جو موجودہ عالمی توانائی بحران کے دوران اس کی پوزیشن کو مضبوط بنا سکتی ہے۔














