برطانیہ میں جنوبی ایشیائی افراد میں بیماریوں کے زیادہ خطرے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک بڑے جینیاتی تحقیقاتی منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد تشخیص، علاج اور روک تھام کے طریقوں کو بہتر بنانا ہے۔
یہ تحقیق کوئین میری یونیورسٹی لندن کی سربراہی میں جاری ہے، جس کے تحت ‘جینز اینڈ ہیلتھ اسٹڈی’ کے ذریعے وولورہیمپٹن اور والسال میں مقیم برطانوی پاکستانی اور بنگلہ دیشی شہریوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: دل کے امراض اور فالج کا خطرہ کم کرنے والی دوا ایجاد
ماہرین کے مطابق اس تحقیق کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ جینیاتی عوامل کس طرح جنوبی ایشیائی افراد میں ذیابیطس اور دل کی بیماریوں جیسے امراض کے زیادہ پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ماضی میں جینومک تحقیق زیادہ تر یورپی آبادیوں پر مرکوز رہی، جس کے باعث جنوبی ایشیائی کمیونٹیز کے لیے مؤثر علاج میں مشکلات پیش آئیں۔
والسال منور ہسپتال کے کنسلٹنٹ اور تحقیق و ترقی کے ڈائریکٹر فہد حسین نے کہا کہ اس تحقیق کے نتائج صحت کے شعبے میں دیرپا تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جتنا بہتر سائنسدان جینز کو سمجھیں گے، اتنا ہی بیماریوں کی پیشگوئی اور تشخیص کے طریقے بہتر ہوں گے۔
اس منصوبے کے تحت شرکاء سے تھوک کے نمونے لے کر ڈی این اے کا تجزیہ کیا جائے گا اور مختصر طبی سوالنامے بھی مکمل کروائے جائیں گے، جبکہ بعض افراد کو مزید تفصیلی تحقیق کے لیے بھی مدعو کیا جا سکتا ہے۔
یہ تحقیق رائل وولورہیمپٹن این ایچ ایس ٹرسٹ اور والسال ہیلتھ کیئر این ایچ ایس ٹرسٹ کے اشتراک سے کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عازمینِ حج کے لیے پاک حج ایپ پر بیماریوں سے متعلق سوالنامہ جاری، جواب کے لیے ڈیڈ لائن مقرر
ماہرین کے مطابق یہ جنوبی ایشیائی کمیونٹیز پر ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی جینیاتی تحقیق ہے۔ ریسرچ کلینیکل ڈائریکٹر ٹونی وینتھ کا کہنا ہے کہ ماضی میں زیادہ تر جینیاتی تحقیق یورپی افراد پر کی گئی، جس کے باعث دیگر کمیونٹیز مناسب نمائندگی سے محروم رہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے جنوبی ایشیائی افراد کے لیے بہتر طبی سہولیات کی راہ ہموار ہوگی اور مستقبل میں صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کی جا سکے گی۔














