باپ کے قتل میں ملوث مجرم کی سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے اپیل مسترد کر دی

پیر 13 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے باپ کے قتل کے مجرم غلام مصطفیٰ کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ مجرم کسی رعایت کا مستحق نہیں۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ : بہن کے قتل کے مجرم کی عمر قید برقرار

عدالت کے مطابق مجرم غلام مصطفیٰ نے جولائی 2020 میں جائیداد کے تنازع پر اپنے 70 سالہ والد غلام محمد کو سوتے ہوئے ٹوکے کے وار سے بے دردی سے قتل کیا۔ فیصلے میں بتایا گیا کہ ملزم نے مداخلت کرنے پر اپنی سوتیلی ماں اور بہن بھائیوں کو بھی شدید زخمی کیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ 4 زخمی عینی شاہدین کی گواہیاں مجرم کو سزا دلوانے کے لیے کافی ہیں، جبکہ میڈیکل شواہد اور پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی ان بیانات کی مکمل تائید کرتی ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نہتے اور سوئے ہوئے والد پر حملہ جرم کی سنگینی کو مزید بڑھاتا ہے اور جائیداد کے لیے اپنے ہی خاندان کا خون بہانے والا کسی رعایت کا حقدار نہیں ہو سکتا۔

مزید پڑھیں: ‘عمران خان نے 75 مرتبہ التوا حاصل کیا،’ بانی پی ٹی آئی کیخلاف ہتکِ عزت کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

واضح رہے کہ اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ نے بھی مجرم کی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔ مدعی کی جانب سے وکیل فہیم اختر گل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp