نیٹو اتحادیوں کا ٹرمپ کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں شامل ہونے سے انکار

منگل 14 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے منصوبے کو نیٹو اتحادیوں نے مسترد کر دیا ہے، جس سے اتحاد کے اندر اختلافات مزید گہرے ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ناٹو کے اتحادی ممالک نے پیر کے روز واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے منصوبے میں شامل نہیں ہوں گے۔ اس فیصلے سے نہ صرف ٹرمپ کی ناراضی میں اضافہ متوقع ہے بلکہ اتحاد کے اندر تناؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔

امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی ایرانی بحری جہاز ناکہ بندی کے قریب آیا تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتہ کے اختتام پر امریکا کے ایران کے ساتھ مذاکرات 6 ہفتوں سے جاری تنازع کو ختم کرنے میں ناکام رہے۔

یہ بھی پڑھیے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کردی،امریکا بلیک میلنگ قبول نہیں کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

ابتدا میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا دیگر ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو محدود کرے گا، تاہم بعد ازاں امریکی فوج نے واضح کیا کہ یہ ناکہ بندی صرف ایران کی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں تک محدود ہوگی۔

فروری کے آخر سے جاری تنازع کے دوران ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ پر بڑی حد تک کنٹرول قائم کر رکھا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً ایک تہائی تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اور وہ اسے مستقل کنٹرول میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔

برطانیہ اور فرانس سمیت کئی نیٹو ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف اس وقت کردار ادا کریں گے جب لڑائی ختم ہو جائے گی اور بحری راستہ بحال کرنا ضروری ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے آبنائے ہرمز بند کرنا کسی ملک کا حق نہیں، اقوام متحدہ

برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر نے کہا کہ ان کی حکومت پر کافی دباؤ ہے، لیکن وہ کسی صورت جنگ میں نہیں الجھیں گے۔

متبادل منصوبہ

نیٹو ممالک ایک ایسے کثیرالقومی مشن پر غور کر رہے ہیں جس کا مقصد جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ہوگا۔

فرانسیسی صدر ایمانول میکرون نے اعلان کیا کہ فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ایک کانفرنس کا انعقاد کرے گا تاکہ ایک بین الاقوامی مشن تشکیل دیا جا سکے۔ یہ مشن مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہوگا اور اس کا مقصد تیل بردار جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق اس مجوزہ مشن میں تقریباً 30 ممالک شریک ہو سکتے ہیں، جن میں خلیجی ممالک، بھارت، یونان، اسپین، اٹلی، نیدرلینڈز اور سویڈن شامل ہیں۔

نیٹو اتحادیوں کا یہ مؤقف ٹرمپ کے ساتھ پہلے سے موجود اختلافات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ ٹرمپ اس سے قبل بھی نیٹو سے علیحدگی اور یورپ سے امریکی افواج کے انخلا کی دھمکی دے چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے آبنائے ہرمز میں کشیدگی: کن علاقوں کی انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہو سکتی ہے؟

دوسری جانب کچھ یورپی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ ٹرمپ آبنائے ہرمز کو اپنے دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ وہ کسی بین الاقوامی مشن کو خوش آمدید نہ کہیں۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے اس معاملے کے حل کے لیے سفارتکاری کو ہی واحد راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بین الاقوامی فورس کا قیام پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp