بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے مالی سال 2026 کے لیے پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد پر برقرار رکھی ہے، جو حکومتی ہدف 4.2 فیصد سے کم ہے۔
یہ اعلان تازہ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں کیا گیا، جس میں خلیجی خطے میں جاری جنگ کے باعث عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز کو اجاگر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آئی ایم ایف پروگرام میں توسیع، بنگلہ دیش کو مزید مالی سہارا ملنے کی امید
آئی ایم ایف کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے عالمی اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی شرح نمو 3.4 فیصد تک محدود رہنے کی توقع ہے، جو جغرافیائی کشیدگی کے باعث 0.2 فیصد کم ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی کی عالمی رسد اور مالیاتی منڈیوں میں خلل نے دنیا بھر کی معیشتوں پر منفی اثر ڈالا ہے۔
پاکستان کے حوالے سے آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ معاشی سرگرمیاں بحالی کی جانب گامزن ہیں، تاہم ساختی مسائل اور بیرونی خطرات کے باعث نمو محدود رہے گی۔ مہنگائی کی شرح رواں مالی سال میں اوسطاً 7.2 فیصد رہنے اور اگلے مالی سال 2027 میں بڑھ کر 8.4 فیصد ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ شرح 4.5 فیصد تھی۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع
رپورٹ کے مطابق بیروزگاری میں معمولی کمی متوقع ہے، جو 7.1 فیصد سے کم ہو کر 6.9 فیصد اور آئندہ سال مزید کم ہو کر 6.5 فیصد ہو سکتی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ رواں مالی سال میں جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے برابر رہنے اور اگلے سال 0.9 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی جنگ طویل یا وسیع ہو گئی تو عالمی ترقی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم مصنوعی ذہانت میں پیش رفت اور تجارتی کشیدگی میں کمی عالمی معیشت کو سہارا دے سکتی ہے۔ رپورٹ میں پالیسی استحکام اور عالمی تعاون کو موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔













