سرگودھا پولیس نے منگل کے روز بتایا کہ 7 سالہ بچی کے قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بچی کی لاش ایک دکان سے برآمد ہوئی تھی۔
مقدمے کے مرکزی ملزم پر الزام ہے کہ اس نے بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی اور بعد ازاں اسے قتل کر دیا۔ ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق یہ جرم 3 دیگر ملزمان کے کہنے پر کیا گیا۔
مزید پڑھیں:مراکشی فٹبال سٹار کی زیادتی کے کیس میں اپیل مسترد، اشرف حکیمی کو عدالتی ٹرائل کا سامنا
سرگودھا پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ مرکزی ملزم، دکان کا مالک جہاں سے بچی کی لاش ملی تھی، اور 2 دیگر افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
@OfficialDPRPP pic.twitter.com/deX4zgIYQI
— Sargodha Police (@sargodhapolice) June 23, 2026
بیان میں مزید کہا گیا کہ پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
اگرچہ پولیس کے بیان میں 4 ملزمان کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی، تاہم سرگودھا کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) صہیب اشرف نے بتایا کہ ایک پانچواں مشتبہ شخص بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس کے خلاف الزامات یا واقعے میں اس کے کردار کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
دوسری جانب سرگودھا کی ایک عدالت کے سول جج عمران فاروق نے مرکزی ملزم کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ سی سی ڈی کے حوالے کر دیا۔
سی سی ڈی کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ ابتدائی ڈی این اے ٹیسٹ میں مرکزی ملزم کا نمونہ میچ کر گیا ہے۔ ان کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔
سرگودھا میں ایک نوجوان معصوم بچی قریبی دکان پر گئی اور واپس نہیں آئی۔ اس کی لاش دکان کے اوپر ایک کمرے سے ملی، جس پر جنسی زیادتی اور قتل کیا گیا تھا۔ 💔
یہ راکشس ہمارے درمیان رہتے ہیں۔😭 pic.twitter.com/gSaT9Xz1rD
— M. Irfan Shahid (@arfan039) June 24, 2026
مزید پڑھیں:جھنگ: 18 سالہ طالبہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ، تشدد اور زیادتی کے شواہد نہ مل سکے
ایف آئی آر کی تفصیلات
یہ گرفتاریاں اس واقعے کے ایک روز بعد عمل میں آئیں جب سرگودھا سٹی پولیس نے بچی کے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کیا۔ ایف آئی آر کی کاپی کے مطابق مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302 (قتل)، 376 (زیادتی یا کم عمر بچے/بچی سے زیادتی)، 511 (سنگین جرم کی کوشش کی سزا) اور 109 (جرم میں معاونت یا اکسانے کی سزا) کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں مدعی، یعنی بچی کے والد، نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی بیٹی قریبی کریانہ اسٹور سے کچھ سامان خریدنے گئی تھی اور وہ اکثر اس دکان پر جایا کرتی تھی۔ جب وہ واپس نہ آئی تو والد پریشان ہو گئے اور چند دیگر افراد کے ہمراہ دکان پر پہنچے۔
سرگودھا میں ایک نوجوان معصوم بچی قریبی دکان پر گئی اور واپس نہیں آئی۔ اس کی لاش دکان کے اوپر ایک کمرے سے ملی، جس پر جنسی زیادتی اور قتل کیا گیا تھا۔ 💔
یہ راکشس ہمارے درمیان رہتے ہیں۔😭 pic.twitter.com/gSaT9Xz1rD
— M. Irfan Shahid (@arfan039) June 24, 2026
مدعی کے مطابق جب انہوں نے دکاندار سے بچی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بعد ازاں وہ دکان کی تیسری منزل پر گئے جہاں انہوں نے مرکزی ملزم کو دیکھا۔ والد کے مطابق، جیسے ہی ملزم نے ہمیں دیکھا، اس نے اپنے ہاتھ میں موجود چھری پھینک دی اور وہاں سے فرار ہو گیا۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش میں بچوں سے زیادتی کے 90 فیصد ملزمان متاثرین کے قریبی نکلے، رپورٹ
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد وہ اپنی بیٹی کے پاس پہنچے جو زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ مدعی نے الزام عائد کیا کہ مرکزی ملزم نے بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد اسے قتل کیا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ جرم دکان کے مالک اور 2 دیگر افراد کے کہنے پر کیا گیا۔ والد کے مطابق واقعے سے 2 روز قبل ان کا دکان کے مالک سے جھگڑا ہوا تھا، جس پر اس نے انہیں دھمکی دی تھی کہ وہ انہیں زندگی بھر یاد رہنے والا سبق سکھائے گا۔














