جنوبی ایشیا کے صفِ اول کے معاون ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ ‘کنیکٹ ہیئر‘ نے جی ایس ایم اے اور یوفون کے اشتراک سے ملک میں سماعت سے محروم افراد کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران ‘نیشنل ڈیپلائمنٹ آف سائن لینگوئج اے آئی فار پبلک براڈکاسٹ’ منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کی مدد سے اشاروں کی زبان کو قومی نشریاتی نظام کا حصہ بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہنگامی صورت حال میں سماعت سے محروم افراد کا تحفظ، مصنوعی ذہانت پر مبنی انتباہی نظام متعارف
اس تقریب میں حکومت، ٹیلی کام سیکٹر، اقوامِ متحدہ کے اداروں اور انسانی ہمدردی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، تاکہ معذور افراد کے لیے مواصلاتی نظام تک رسائی کو ممکن بنایا جاسکے۔
یہ تقریب کنیکٹ ہیئر کے جی ایس ایم اے کے تعاون سے چلنے والے جدید ترین نظام ‘سُنو’ کے آزمائشی مرحلے کی کامیابیوں اور اب اس کے ملک گیر نفاذ کے آغاز کی علامت ہے۔ ‘سُنو’ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ایسا نظام ہے جو آفات اور ہنگامی حالات کے دوران سماعت سے محروم افراد کو اشاروں کی زبان میں قبل از وقت آگاہی فراہم کرتا ہے۔
اپنے پائلٹ مرحلے کے دوران اس سسٹم نے سندھ کے 10 سے زائد آفت زدہ اضلاع میں تقریباً 2ہزار افراد تک خدمات پہنچائیں، جہاں کم بینڈوڈتھ کے باوجود ہنگامی معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔
اب یہ ٹیکنالوجی کنیکٹ ہیئر کی ورچوئل انٹرپریٹیشن ایپ کا حصہ بن کر 50 ہزار سے زائد صارفین تک پہنچے گی، جو پاکستان میں موجود 13 لاکھ 50 ہزار سے زائد سماعت سے محروم افراد کے لیے ایک بڑی نعمت ثابت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: نئی ٹیکنالوجی، قوت سماعت سے محروم افراد کیلئے خوشخبری
برطانوی ہائی کمشنر جین میریئٹ نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ‘سُنو’ اس بات کی روشن مثال ہے کہ کس طرح مقامی سطح پر تیار کردہ مصنوعی ذہانت کی سہولیات آفات سے نمٹنے کی تیاریوں میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ برطانیہ ایسی ٹیکنالوجی کی حمایت کر رہا ہے جو پاکستان بھر میں موجود ایک کروڑ سے زائد کم سماعت رکھنے والے افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔
جی ایس ایم اے کی عہدیدار کمبرلی براؤن نے بھی اس منصوبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کنیکٹ ہیئر کا کام رسائی کے حوالے سے ایک عالمی معیار قائم کرے گا، جس سے ہنگامی حالات میں جان بچانے والی معلومات کی بروقت فراہمی ممکن ہوگی۔
پی ٹی سی ایل اور یوفون کے چیف کمرشل آفیسر سید عاطف رضا نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کا اصل مقصد صرف کنیکٹیویٹی فراہم کرنا نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد، بالخصوص معذور افراد کی شمولیت کو ممکن بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سماعت سے محروم افراد کو پنجاب اسمبلی کی کارروائی سے باخبر رکھنے کے لیے ایس ایل ٹی تعیناتی کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ یوفون اپنی ڈیجیٹل مہارت کے ذریعے ایک ایسا جامع ایکو سسٹم تشکیل دے رہا ہے جہاں اہم معلومات ہر شہری تک پہنچ سکیں۔
کنیکٹ ہیئر کے شریک بانی ارحم اشتیاق نے اسے ایک حقیقی جدت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ایسی ٹیکنالوجی کی تشکیل ہے جو ڈیجیٹل اور حقیقی دنیا کو سماعت سے محروم افراد کے لیے مکمل طور پر قابلِ رسائی بنا دے۔
تقریب کے اختتام پر مصنوعی ذہانت پر مبنی اشاروں کی زبان کی نشریاتی ٹیکنالوجی کا براہِ راست مظاہرہ بھی کیا گیا، جس میں اس کے قومی نشریاتی نظام اور عوامی مواصلاتی ذرائع میں انضمام کے مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالی گئی۔














