جنوبی ترکیہ کے صوبے قہرمان ماراش کے ایک مڈل اسکول میں فائرنگ کے ایک لرزہ خیز واقعے میں 8 بچوں سمیت نو افراد جاں بحق اور 13 زخمی ہو گئے ہیں۔
ترکیہ کے وزیرِ داخلہ مصطفیٰ چیفچی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے 6 کی حالت تشویشناک ہے، جس کی وجہ سے جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کے اسکول میں فائرنگ، 16 افراد زخمی، حملہ آور نے خودکشی کرلی
وزیرِ داخلہ نے واقعے کو ‘ذاتی نوعیت’ کا واقعہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس ہولناک حملے کے پیچھے کسی سیاسی یا دہشت گردانہ نیٹ ورک کے بجائے انفرادی عوامل کارفرما نظر آتے ہیں۔
مقامی گورنر مکرم اونلوئر نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حملہ آور آٹھویں جماعت کا ایک طالب علم تھا جو اپنے سابق پولیس افسر والد کا اسلحہ لے کر اسکول میں داخل ہوا تھا۔
گورنر کے مطابق 13 یا 14 سالہ طالب علم اپنے بیگ میں 5 ہتھیار اور سات میگزین چھپا کر لایا تھا اور اس نے پانچویں جماعت کے دو کمروں میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 10 اور 11 سال کے کمسن بچے ہلاک و زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا: برٹش کولمبیا کے اسکول میں فائرنگ، 10 افراد ہلاک؛ مشتبہ حملہ آور بھی مارا گیا
حملے کے فوراً بعد پیدا ہونے والی افراتفری کے دوران حملہ آور نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کر لیا۔ اسکول میں نصب سی سی ٹی وی کی غیر مصدقہ ویڈیوز میں حملہ آور کو راہداری میں طلبہ پر فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ دیگر ویڈیوز میں خوفزدہ بچوں کو جان بچانے کے لیے اسکول کی دوسری منزل کی کھڑکیوں سے چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ترکیہ میں اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات انتہائی نایاب سمجھے جاتے ہیں، تاہم گزشتہ دو دنوں میں یہ دوسرا ایسا واقعہ ہے۔
منگل کے روز بھی جنوب مشرقی صوبے شانلی عرفہ میں ایک سابق طالب علم نے اسکول میں فائرنگ کر کے اساتذہ اور طلبہ سمیت 16 افراد کو زخمی کر دیا تھا اور بعد میں خودکشی کرلی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا: اسکول میں فائرنگ سے 9 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
وزیرِ انصاف اکین گرلیک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پیغام میں بتایا کہ قہرمان ماراش حملے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے 4 افراد کے فوری آپریشنز کیے جارہے ہیں تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے.














