اسلام آباد میں اس وقت کچی آبادیوں کے خلاف جاری آپریشن نے شہر میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مختلف علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے غیر رسمی بستیوں کو مسمار کیا جا رہا ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو رہے ہیں۔
حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں شہر کے ماسٹر پلان پر عملدرآمد اور غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے کے لیے ضروری ہیں، تاہم متاثرہ افراد اسے اپنے ساتھ ناانصافی قرار دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں کچی آبادیوں کا قیام کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ ماضی میں دیہی علاقوں سے روزگار کی تلاش میں آنے والے کم آمدنی والے افراد نے شہر میں سستی رہائش نہ ہونے کی وجہ سے خالی زمینوں پر بستیاں آباد کیں۔ وقت کے ساتھ یہ بستیاں مستقل رہائشی علاقوں کی شکل اختیار کر گئیں۔ مختلف ادوار میں حکومتوں نے ان آبادیوں کو ریگولرائز کرنے یا ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی جامع اور مستقل پالیسی سامنے نہ آ سکی، جس کے باعث یہ مسئلہ جوں کا توں برقرار رہا۔
موجودہ آپریشن سے سب سے زیادہ اثر ان رہائشیوں پر پڑ رہا ہے جو برسوں سے ان علاقوں میں مقیم تھے۔ کئی خاندان ایک ہی دن میں اپنی چھت سے محروم ہو گئے ہیں اور انہیں متبادل رہائش بھی فراہم نہیں کی گئی۔ روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ زیادہ تر افراد قریبی علاقوں میں محنت مزدوری کرتے تھے۔
انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق، اگر ان لوگوں کو مناسب متبادل دیے بغیر بے دخل کیا گیا تو اس سے نہ صرف غربت میں اضافہ ہوگا بلکہ سماجی اور معاشی مسائل میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
سی ڈی اے حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں شہر کے ماسٹر پلان پر عملدرآمد اور غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے کے لیے ضروری ہیں۔
سی ڈی اے کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے آپریشنز میں کسی دوہرے معیار پر عمل نہیں کر رہا۔ ادارے کے مطابق ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف امینٹی پلاٹس کے معاملے میں کی جانے والی کارروائیاں اور غیر قانونی کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن دراصل ایک ہی پالیسی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد قانون پر عملدرآمد، شہر کے ماسٹر پلان کا تحفظ اور شہریوں کے حقوق کو یقینی بنانا ہے۔ سی ڈی اے کے مطابق متعدد نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے این او سیز منسوخ کیے جا چکے ہیں، دفاتر سیل کیے گئے ہیں اور بعض کیسز عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔
ادارے کا مزید کہنا ہے کہ اسلام آباد میں تقریباً 10 کچی آبادیاں ایسی ہیں جنہیں باقاعدہ تسلیم کیا گیا تھا، جن میں سے 4 کو مختلف حکومتی پالیسیوں کے تحت منتقل بھی کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی تمام غیر قانونی آبادیاں تجاوزات کے زمرے میں آتی ہیں۔
سی ڈی اے کے مطابق اس کی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بلا امتیاز ان تمام غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔













