اسلام آباد میں کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن: ترقی یا انسانی بحران؟

جمعرات 16 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد میں اس وقت کچی آبادیوں کے خلاف جاری آپریشن نے شہر میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مختلف علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے غیر رسمی بستیوں کو مسمار کیا جا رہا ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو رہے ہیں۔

حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں شہر کے ماسٹر پلان پر عملدرآمد اور غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے کے لیے ضروری ہیں، تاہم متاثرہ افراد اسے اپنے ساتھ ناانصافی قرار دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں کچی آبادیوں کا قیام کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ ماضی میں دیہی علاقوں سے روزگار کی تلاش میں آنے والے کم آمدنی والے افراد نے شہر میں سستی رہائش نہ ہونے کی وجہ سے خالی زمینوں پر بستیاں آباد کیں۔ وقت کے ساتھ یہ بستیاں مستقل رہائشی علاقوں کی شکل اختیار کر گئیں۔ مختلف ادوار میں حکومتوں نے ان آبادیوں کو ریگولرائز کرنے یا ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی جامع اور مستقل پالیسی سامنے نہ آ سکی، جس کے باعث یہ مسئلہ جوں کا توں برقرار رہا۔

موجودہ آپریشن سے سب سے زیادہ اثر ان رہائشیوں پر پڑ رہا ہے جو برسوں سے ان علاقوں میں مقیم تھے۔ کئی خاندان ایک ہی دن میں اپنی چھت سے محروم ہو گئے ہیں اور انہیں متبادل رہائش بھی فراہم نہیں کی گئی۔ روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ زیادہ تر افراد قریبی علاقوں میں محنت مزدوری کرتے تھے۔

انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق، اگر ان لوگوں کو مناسب متبادل دیے بغیر بے دخل کیا گیا تو اس سے نہ صرف غربت میں اضافہ ہوگا بلکہ سماجی اور معاشی مسائل میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

سی ڈی اے حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں شہر کے ماسٹر پلان پر عملدرآمد اور غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے کے لیے ضروری ہیں۔

سی ڈی اے کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے آپریشنز میں کسی دوہرے معیار پر عمل نہیں کر رہا۔ ادارے کے مطابق ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف امینٹی پلاٹس کے معاملے میں کی جانے والی کارروائیاں اور غیر قانونی کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن دراصل ایک ہی پالیسی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد قانون پر عملدرآمد، شہر کے ماسٹر پلان کا تحفظ اور شہریوں کے حقوق کو یقینی بنانا ہے۔ سی ڈی اے کے مطابق متعدد نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے این او سیز منسوخ کیے جا چکے ہیں، دفاتر سیل کیے گئے ہیں اور بعض کیسز عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

ادارے کا مزید کہنا ہے کہ اسلام آباد میں تقریباً 10 کچی آبادیاں ایسی ہیں جنہیں باقاعدہ تسلیم کیا گیا تھا، جن میں سے 4 کو مختلف حکومتی پالیسیوں کے تحت منتقل بھی کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی تمام غیر قانونی آبادیاں تجاوزات کے زمرے میں آتی ہیں۔

سی ڈی اے کے مطابق اس کی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بلا امتیاز ان تمام غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ہواوے کا نیا فولڈیبل فون بڑی اسکرین اور طاقتور فیچرز کے ساتھ متعارف

الیکشن کمیشن نے مراد سعید کی نشست پر ضمنی انتخاب مؤخر کر دیا

واٹس ایپ کا نیا پریمیم پلان، صارفین کو ماہانہ کتنی فیس ادا کرنا ہوگی؟

غیر متوقع تعطیلات میں بھی عدالتی نظام جاری رکھنے کے لیے سپریم کورٹ کے نئے ایس او پیز جاری

نیتن یاہو کو گرفتار کریں گے، ہنگری کے نومنتخب وزیراعظم کا بڑا اعلان

ویڈیو

لائیوایران امریکا جنگ بندی اختتام کے قریب، مذاکرات بحال ہونے کی امید، تہران کے مثبت اشارے

لائیوجے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد ایران سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوگیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

کالم / تجزیہ

علامہ اقبال اور پاکستان پوسٹ

اسرائیل کا مسئلہ کیا ہے؟

ایک اور ایک گیارہ سے نو دو گیارہ