یورپی کمیشن نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی واٹس ایپ بزنس سروس میں اے آئی سے متعلق نئی فیس اور پالیسی مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ کمیشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے مارکیٹ میں غیر منصفانہ برتری اور مقابلے میں کمی پیدا ہو رہی ہے، جس کے باعث حریف اے آئی سروسز کی رسائی متاثر ہو رہی ہے۔
یورپی کمیشن نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کو ہدایت دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے کہ وہ واٹس ایپ پر تھرڈ پارٹی یا حریف مصنوعی ذہانت (اے آئی) اسسٹنٹس کی دوبارہ رسائی یقینی بنائے، کیونکہ کمپنی نے اس سروس تک رسائی کے لیے فیس عائد کر دی تھی۔
یورپی یونین کے مسابقتی امور کے نگران ادارے نے حال ہی میں کہا ہے کہ میٹا کی جانب سے اے آئی سے متعلق اپنائی گئی فیس یا قیمتوں کا ڈھانچہ اینٹی ٹرسٹ قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔ ان قوانین کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی مارکیٹ میں بالادستی کے ناجائز استعمال، غیر منصفانہ قیمتوں کے تعین اور مقابلے کو محدود کرنے سے روکنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے یورپی یونین میٹا کے خلاف انکوائری کی تیاری کیوں کررہی ہے؟
بدھ کے روز یورپی کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ میٹا کو حکم دینے کا ارادہ رکھتا ہے کہ واٹس ایپ میسجنگ سروس پر تھرڈ پارٹی اے آئی اسسٹنٹس کو دوبارہ اسی طرح رسائی دی جائے جیسے 15 اکتوبر 2025 سے قبل حاصل تھی۔ یہ اقدام اس لیے تجویز کیا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ طور پر مقابلے کو پہنچنے والے سنگین اور ناقابل تلافی نقصان کو روکا جا سکے۔
کمیشن کے مطابق یہ عبوری اقدامات اس وقت تک نافذ رہیں گے جب تک مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ اسے ابتدائی طور پر ایسا لگتا ہے کہ میٹا کی نظرثانی شدہ پالیسی بھی اسی اثر کی حامل ہے جس کے تحت تھرڈ پارٹی اے آئی اسسٹنٹس کو واٹس ایپ سے باہر رکھا جا رہا ہے، جو بظاہر یورپی یونین کے مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
میٹا نے مارچ میں یورپی کمیشن کو آگاہ کیا تھا کہ وہ ایک سال کے لیے واٹس ایپ پر حریف اے آئی اسسٹنٹس کو اجازت دے گا، تاہم یہ اجازت ایک فیس کے ساتھ مشروط ہوگی۔ اس سے قبل کمپنی نے واٹس ایپ بزنس پر تھرڈ پارٹی چیٹ بوٹس پر مکمل پابندی کا منصوبہ بنایا تھا۔
میٹا کے ترجمان نے ایک ای میل بیان میں کہا کہ یورپی کمیشن اپنے ریگولیٹری اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کی بڑی کمپنیوں کو واٹس ایپ بزنس جیسی ادا شدہ سروس مفت استعمال کرنے کی سہولت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے واٹس ایپ کو اے آئی حریفوں کو رسائی نہ دینا مہنگا پڑگیا، یورپی یونین حرکت میں آگئی
ترجمان کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں فرانس میں ایک چھوٹی بیکری، جو کروسان آرڈرز لینے کے لیے اس سروس کی فیس ادا کرتی ہے، دراصل اوپن اے آئی جیسے اداروں کا خرچ برداشت کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹے یورپی کاروباروں کو اوپن اے آئی کا بل ادا نہیں کرنا چاہیے۔
مزید برآں، یورپی کمیشن نے بتایا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کا دائرہ اٹلی تک بڑھا دیا گیا ہے، جہاں گزشتہ سال وہاں کے مسابقتی نگران ادارے نے بھی اس حوالے سے الگ تحقیقات شروع کی تھیں۔














