امریکی حکومت ایک اہم فیصلے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت وفاقی اداروں کو انتھروپک (Anthropic) کے جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) ماڈل ’مائتھوس‘ تک محدود رسائی دی جا سکتی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلوم برگ کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں زیر غور ہے جب حکومت جدید اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیدا ہونے والے سائبر سیکیورٹی خطرات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید پڑھیں:امریکا ایران مذاکرات: بات چیت کا دوسرا دور بٹ کوائن کے لیے کتنا اہم ہوگا؟
رپورٹ کے مطابق ’مائتھوس‘ کو پروجیکٹ گلاس ونگ کے تحت متعارف کرایا جا رہا ہے، جس میں منتخب اداروں کو اس ماڈل کے ابتدائی ورژن ’کلاؤڈ مائتھوس پریو‘ تک رسائی دی جائے گی تاکہ دفاعی سائبر سیکیورٹی کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل سافٹ ویئر، ویب براؤزرز اور آپریٹنگ سسٹمز میں ہزاروں بڑی کمزوریاں تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پیچیدہ کوڈ لکھنے اور ممکنہ سیکیورٹی خامیوں کا فائدہ اٹھانے کے طریقے بھی تیار کر سکتا ہے، جس سے اس کی طاقت اور خطرات دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
The US is preparing to make a version of Anthropic’s Mythos available to top agencies as the AI model raises cyber risk concerns. https://t.co/vj8BrCAcHV
— Bloomberg (@business) April 16, 2026
وائٹ ہاؤس کے فیڈرل چیف انفارمیشن آفیسر نے کابینہ کے اداروں کو ایک ای میل میں بتایا کہ حکومت اس ماڈل کے استعمال کے لیے حفاظتی اقدامات تیار کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ماڈل فراہم کرنے والی کمپنیوں، انڈسٹری پارٹنرز اور انٹیلی جنس کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ مناسب حفاظتی حدود مقرر کی جا سکیں، اس سے پہلے کہ اس ماڈل کا کوئی ترمیم شدہ ورژن سرکاری اداروں کو دیا جائے۔
مزید پڑھیں: ایران کے ساتھ ڈیل ہو گئی تو ہو سکتا ہے میں اسلام آباد جاؤں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
تاہم، اس ای میل میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن اداروں کو کب تک اس ماڈل تک رسائی دی جائے گی یا وہ اسے کس طرح استعمال کریں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں حکومتی سطح پر اے آئی کے استعمال اور اس کے خطرات کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔














