امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

جمعہ 17 اپریل 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

21 اپریل آنے والی ہے۔ صرف 5 دن باقی ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی میعاد اسی روز ختم ہوتی ہے۔ اس تاریخ سے پہلے ڈیل ہوجانی چاہیے یا پھر جنگ بندی میں توسیع، ورنہ پھر خطے میں لہو بہنا شروع ہوجائے گا۔

سوال یہ ہے کہ ڈیل ہو رہی ہے یا نہیں؟ اس سے بھی اہم کہ ڈیل کتنی بڑی ہوگی، کس کے حق میں جائے گی اور کون اپنی ہار کو جیت میں بدل کر پیش کرے گا۔ ممکنہ ڈیل کا خاکہ کیا ہے؟ کس کو کیا ملے گا؟

آج کے کالم میں ہم اپنے قارئین کے سامنے پوری تصویر رکھیں گے، صرف چند ٹکڑے نہیں بلکہ مکمل تصویر۔

امریکا، ایران مذاکرات کے حوالے سے کیا ہونے جا رہا ہے؟ کون سا فریق کہاں کھڑا ہے؟ کس کے حصے میں کیا آرہا ہے؟ پاکستان اس پورے کھیل میں کہاں اور کس حیثیت میں موجود ہے؟

کیا ڈیل ممکن ہے؟

اس کا جواب ہاں میں ہے۔ ایک بڑی اور کمپری ہینسو ڈیل کی تیاریاں چل رہی ہیں، ویسے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈیل ہونے جارہی ہے، مگر ہم محتاط تجزیہ کریں گے تو یہ کہیں گے کہ ڈیل ہونے کے قومی امکانات ہیں۔

15 اپریل کو جے ڈی وینس نے جارجیا میں کہا: ’جو(ایرانی) لوگ ہمارے سامنے میز پر بیٹھے تھے، وہ واقعی معاہدہ چاہتے تھے۔ میں اس بارے میں بہت پُر امید ہوں‘۔اسی روز ٹرمپ نے کہا کہ دنیا ’حیران کن 2 دنوں‘ کے لیے تیار رہے اور جنگ ’ختم ہونے کے قریب‘ ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ مذاکرات ’نتیجہ خیز اور جاری‘ ہیں۔ٹرمپ نے گزشتہ رات ایک بار پھر اشارہ دیا کہ ڈیل ہونے جا رہی ہے اور اگر ایسا ہوا تو وہ اسلام آباد ،پاکستان جائیں گے، جہاں کا فیلڈ مارشل بھی شاندار آدمی ہے اور وزیر اعظم بھی شاندار شخص ہے۔

پاکستانی فیلڈمارشل ایک اہم وفد لے کر ایران گئے ہیں ، اس سے بڑا بریک تھرو ہونے جارہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا طوفانی دورہ کیا ہے، اس میں بھی بہت کچھ طے ہو رہا ہے، دوست ممالک کو اعتماد میں لیا جا رہا۔ واشنگٹن سے بھی اعلیٰ سطحی رابطے ہیں، چین بھی آن بورڈ ہے۔ پاکستانی اعلیٰ شخصیت امریکا کا فوری دورہ بھی کر سکتی ہے۔ یہ سب ڈیل کے لیے ہی ہو رہا ہے۔ پاکستانی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ جوہری محاذ پر ’بڑی پیشرفت‘ متوقع ہے۔یہ سب اشارے ایک سمت میں ہیں۔ ڈیل کے امکانات بہت بڑھ چکے ہیں۔

امریکا کو کیا چاہیے؟

امریکی مطالبات کی 3 اہم سطحیں ہیں۔

پہلی اور سب سے اہم: ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے، یورینیم افزودگی بند یا سخت محدود ہو، اور موجودہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ملک سے باہر منتقل ہو۔ امریکا نے 20 سال کے لیے یورینیئم کی افزودگی معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایران نے 5 سال کی پیشکش کی۔ درمیانی راہ نکالنے کی کوشش ہو رہی ہے، 10-15 سال کے درمیان سمجھوتہ ہوسکتا ہے۔ امریکا چاہتا تھا کہ ایرانی افزودہ یورینیئم اس کے حوالے ہو، ایران انکاری تھا۔ اب یہ تجویز ہے کہ کسی تیسرے ملک (روس، چین وغیرہ )کے پاس وہ افزودہ یورینیئم رکھوا دی جائے ۔ ایران اس پر رضامند ہو سکتا ہے۔

امریکا مطالبے کی دوسری سطح: امریکیوں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلے اور ایران اسے سودے بازی کے ہتھیار کے طور پر نہ استعمال کرے۔ ٹرمپ نے جو بحری ناکہ بندی لگائی ہے، اس کا اصل ہدف یہی ہے کہ ایران کے ہاتھ سے یہ پتا نکال لیا جائے۔ ایران نے اس میں کچھ تامل کیا ہے، ٹول ٹیکس کی بات بھی کی ہے، مگر یہ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں۔ امریکا حملے سے پہلے والی صورتحال میں آبنائے ہرمز جا سکتی ہے۔

تیسری سطح: امریکا چاہتا ہے کہ ایران لبنان، عراق اور یمن میں اپنے اتحادی گروہوں (حزب اللہ، حوثی، عراقی شیعہ گروپس) کی مالی معاونت محدود کرے۔ یہ شاید سب سے مشکل مطالبہ ہے کیونکہ ایران اسے اپنی علاقائی حکمت عملی کا بنیادی حصہ سمجھتا ہے۔

ایران کو کیا چاہیے؟

ایران کی ترجیحات بھی واضح ہیں۔

پابندیوں کا خاتمہ: تیل کی برآمد پر پابندی نے ایرانی معیشت کو کھوکھلا کر دیا ہے، ایرانی ریال بے قیمت ہوچکا ہے اور عوام سخت مشکلات میں ہیں۔ پابندیاں اٹھیں تو ایران کے لیے سانس لینے کی گنجائش پیدا ہو۔ایرانی چاہتے ہیں کہ یہ پابندیاں ختم ہوں، کم از کم فوری طور پر ان میں خاصی نرمی تو آئے۔

 دوسرا: منجمد اثاثوں کی واپسی۔ امریکا نے ایران کے اربوں ، کھربوں ڈالر دنیا کے مختلف بینکوں میں منجمد کر رکھے ہیں۔ یہ واپس ملیں تو فوری ریلیف ملے۔ ان فریز شدہ رقوم کا بڑا حصہ قطر کے پاس محفوظ ہے۔ یہ کوشش ہے کہ کم از کم وہ رقوم تو ایران کو فوری ملے تاکہ وہ جنگ سے تباہ حال علاقوں کا انفراسٹرکچر بہتر بنا سکے۔

تیسرا: عزت کے ساتھ ڈیل۔ ایران کی نئی قیادت کو اپنے عوام کو یہ سمجھانا ہے کہ سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد جو جنگ ہوئی، اس کا نتیجہ قومی شکست نہیں بلکہ ایک باوقار سمجھوتہ ہے۔ افزودگی کا حق ’ختم‘ نہیں بلکہ ’معطل‘ ہوا۔ یہ لفظوں کا فرق نہیں، یہ ایران کی ملکی سیاست کی ضرورت ہے۔

چوتھا: لبنان اور حزب اللہ کا معاملہ۔ ایران کہتا رہا کہ جامع جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہو۔ 16 اپریل کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان ہوا، جو ایران کے لیے ایک جزوی فتح ہے۔ ایران کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ حزب اللہ، حوثیوں وغیرہ کو ایسے چھوڑ دے، کچھ فاصلہ ممکن ہے پیدا کیا جائے مگر وہ بتدریج ہی ہوسکتا ہے، فوری نہیں۔

ڈیل کا ممکنہ خاکہ

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ چونکہ وقت کم ہے، اس لیے ممکن ہے امریکا اور ایران کے درمیان جامع اور مکمل معاہدہ ابھی نہ ہوسکے، مگر کچھ نہ کچھ ضرور ہو جائے گا، جیسے جنگ بندی میں توسیع، عارضی معاہدہ وغیرہ۔ ویسے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اگلے 3-4 دنوں میں یعنی 20 اپریل کو کوئی کرشمہ ہو جائے۔ ٹرمپ جیسے غیر روایتی شخص سے کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے۔

بہرحال اگر ڈیل نہ ہو پائی تب بھی ایک عبوری فریم ورک سامنے آ سکتا ہے جس میں 3 چیزیں ہوں گی: پہلی، جنگ بندی کی مدت میں توسیع تاکہ مزید مذاکرات ہو سکیں۔ دوسری، جوہری پروگرام پر ابتدائی اتفاق جس میں افزودگی معطل ہو اور بین الاقوامی معائنہ بحال ہو۔ تیسری، بتدریج پابندیوں میں نرمی کا وعدہ، اس کے ساتھ ممکن ہے فریز شدہ رقوم کا ایک حصہ بھی واپس ہو جائے جبکہ آبنائے ہرمز عام ٹریفک کے لیے کھول دی جائے۔

یہ اوباما کی 2015 والی ڈیل سے ملتا جلتا خاکہ ہے۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیں: جس ڈیل کو ٹرمپ نے 2018 میں توڑا، آج وہی ٹرمپ کچھ ایسی ہی ڈیل کرنے کی کوشش میں ہے، البتہ نئی پیکیجنگ کے ساتھ۔ 8 برس کی تکلیف، ایک جنگ اور ہزاروں قربانیاں اور واپسی کا راستہ وہیں سے جہاں سے چلے تھے۔

پاکستان کہاں کھڑا ہے ؟

پاکستان کا کردار اس پوری صورتحال میں تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اسے واحد ’ثالث‘ قرار دیا، ٹرمپ نے خود فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا نام لے کر تعریف کی۔ ایران نے کہا کہ پاکستان واحد قابل اعتماد ثالث ہے اس لیے ہم اگلے راؤنڈ کے لیے صرف پاکستان ہی جائیں گے۔ دونوں فریقوں نے اسلام آباد پر اعتماد ظاہر کیا۔ یہ پوزیشن محنت سے حاصل کی گئی ہے اور اسے برقرار رکھنا اس سے کہیں زیادہ مشکل کام ہوگا۔

پہلے راؤنڈ میں بھی پاکستانی کردار اہم تھا، اس کے بعد یہ مزید بڑھا ہے۔ اب دنیا بھر کے تجزیہ کار متفق ہے کہ پاکستان نے بریک تھرو سہولت کاری کی ہے۔ یہ اب صرف پیغام رساں یا قاصد نہیں بلکہ ثالث ہے، ایک ایکٹو، متحرک، فعال اور چمتکار دکھانے والا ثالث۔ پاکستان کو اب میزبان، سہولت کار، باہمی پل اور ثالث سمجھا اور کہا جا رہا ہے۔ یہ عالمی سفارتی دنیا میں پاکستان کی شاندار انٹری ہے۔ ایسی جس کا چند ماہ قبل کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

اگلا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو اس سے کوئی ٹھوس فائدہ ہوگا؟

یہاں پر صاف صاف بات کی جائے تو یہ پاکستان کے اوپر منحصر ہے۔دنیا میں  ثالثی کی تعریف اور شاباشیاں ملتی ہیں، مگر عزت کے ساتھ ساتھ مفاد بھی ہونا چاہیے، ورنہ یہ کام محض اعزاز بن کر رہ جاتا ہے۔ پاکستانی عوام توقع کر رہے ہیں کہ پاکستان کے لیے اب  ایران گیس پائپ لائن کا راستہ کھلنا چاہیے، جو ایک عرصے سے امریکی دباؤ کی نذر ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت میں امریکی نرمی ملنی چاہیے۔ بین الاقوامی ساکھ بڑھنے سے سرمایہ کاری کے دروازے کھلنے چاہییں۔ اگر ان میں سے کچھ بھی نہ ہوا تو تعریف کے چند جملے اور اعزاز کا ایک لمحہ پاکستانی عوام کے کسی کام نہیں آنا۔

ہماری تاریخ میں ایسے مواقع آتے رہے ہیں۔ افغان جہاد میں ہم نے سب سے زیادہ قربانی دی، سب سے آخر میں ہم ہی ہاتھ خالی لیے کھڑے تھے۔ اس بار دانش مندی یہ ہوگی کہ مذاکرات کی میز سے اٹھنے سے پہلے اپنا حصہ لکھوا لیا جائے۔

ممکنہ گرینڈ بارگین /ڈیل

اس وقت مذاکرات کی میز پر ’گرینڈ بارگین‘ کا مسودہ موجود ہے، جس کے تحت:

 ایران کو کیا ملے گا؟: ایران کے منجمد 12 ارب ڈالر کے اثاثوں کی فوری واگزاری، تمام تجارتی اور مالی پابندیوں کا بتدریج خاتمہ، اور سب سے اہم یہ کہ اسے خطے کی ایک تسلیم شدہ طاقت کے طور پر قبول کرنا۔

امریکا کو کیا ملے گا؟: ایران کی جانب سے ایٹمی افزودگی پر طویل مدتی التوا۔ جسے صدر ٹرمپ اپنے امریکی عوام کے سامنے فخریہ بتائیں گے کہ  ہم نے ایران کو نیوکلیئر بم نہیں بنانے دیا، ایران اب ایسا کچھ نہیں کرے گا وغیرہ۔  آبنائے ہرمز کی مکمل سلامتی کی ضمانت، اور امریکی افواج کے لیے ایک ’باعزت انخلا‘ کا راستہ۔ یہ بہت اہم بات ہے کیونکہ یہ جنگ امریکی نقطہ نگاہ سے ایک مس ایڈونچر تھا، اچھی کیلکولیشن کیے بغیر اندھا دھند چڑھائی کر دینا اور اب امریکا اس میں پھنس چکا ہے۔ وہ ہر حال میں نکلنا چاہتا ہے، یہ ڈیل دراصل ایران سے زیادہ امریکا کی مجبوری ہے۔

ٹرمپ اور ایران کی ’فیس سیونگ‘

ڈونلڈ ٹرمپ: ان کے لیے کامیابی یہ ہے کہ وہ اسے اپنی ’آرٹ آف دی ڈیل‘ کی معراج قرار دیں گے۔ وہ امریکی عوام کو بتائیں گے کہ انہوں نے ’تھوڑی سی طاقت‘ (سرجیکل اسٹرائیکس) استعمال کر کے ایران کو میز پر لایا اور ایک ایسا معاہدہ کیا جو اوباما دور کے معاہدے سے کہیں بہتر ہے۔ وہ اپنی خودساختہ بہادری، جرأت اور دانش کے گیت گائیں گے، ایرانی قیادت تبدیل کر دینے کا کریڈٹ بھی لیں گے اور بھی بہت کچھ کہیں گے جو زیادہ تر جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد ہوگا۔

ایران: تہران کے لیے فیس سیونگ یہ ہے کہ وہ اسے اپنی ’استقامت‘ کی فتح قرار دے رہے ہیں۔ وہ اپنے عوام کو یہ بتائیں گے کہ انہوں نے امریکا کو مجبور کیا کہ وہ ایران کے 10 نکاتی امن منصوبے کو تسلیم کرے اور پابندیاں اٹھانے پر مجبور ہو۔ویسے اس میں کوئی شک نہیں کہ ایرانیوں نے کمال جرأت، ہمت اور سمجھداری سے جنگ لڑی۔ امریکی اپنی تمام تر کوشش اور بے پناہ جنگی قوت کے باوجود ایرانیوں کے حوصلے کو توڑ سکے اور نہ ان کی مزاحمت کمزور ہوئی۔

 نئے علاقائی اتحاد اور بلاکس

خطے میں اب 2 واضح گروپ ابھرتے نظر آ رہے ہیں:

 پرو امن بلاک (پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر): یہ چاروں ممالک اس وقت ایک صفحے پر ہیں۔ ان کا مقصد ایران کو عالمی دھارے میں واپس لا کر خطے میں استحکام لانا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطے اسی بلاک کی مرہونِ منت ہیں۔ مصر اور ترکیہ اس ڈیل کے لیے ’سیکیورٹی گارنٹرز‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

اسٹیٹس کو بلاک (متحدہ عرب امارات، بحرین وغیرہ): یہ ممالک تاحال محتاط ہیں۔ وہ ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوفزدہ ہیں اور اسرائیل کے ساتھ اپنے سیکیورٹی معاہدوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ تاہم ڈیل مکمل ہونے کی صورت میں وہ بھی اس دھارے میں شامل ہونے پر مجبور ہوں گے۔

بھارت: کھیل سے باہر 

اس پوری صورتحال میں سب سے دلچسپ پہلو بھارت کا ہے۔ نئی دہلی جو کبھی ایران کا بڑا تجارتی پارٹنر اور چاہ بہار کا دعویدار تھا، اب اس سفارتی عمل سے مکمل طور پر آؤٹ ہے۔ حالانکہ بھارت اسرائیل کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے، ایران کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات تھے، سعودی عرب کے ساتھ اچھے تجارتی تعلقات ہیں۔ امریکا کے ساتھ وہ قریب ہے، اس سب کے باوجود عملی طور پر بھارت کارنر ہوچکا ہے۔ دراصل بھارت کی اسرائیل کے ساتھ حد سے زیادہ قربت اور حالیہ کشیدگی میں مبہم مؤقف نے اسے ایران کی نظر میں مشکوک بنا دیا ہے۔

بھارت اس وقت ’ہارٹ برن‘ (دل جلنے) کی کیفیت میں ہے کیونکہ اس کا روایتی حریف پاکستان عالمی سطح پر وہ سفارتی اہمیت حاصل کر چکا ہے جس کا خواب بھارت دیکھ رہا تھا۔

وہ ’فریق‘ جو میز پر نہیں

ایک بات جو کم تجزیوں میں آ رہی ہے، وہ ہے اسرائیل کا کردار ہے۔ اسرائیل نہیں چاہتا کہ یہ ڈیل ہو۔ اس کی وجہ سادہ ہے: ڈیل ہوئی تو پابندیاں اٹھیں گی، ایران کی معیشت سانس لے گی، وہ دوبارہ اپنے اتحادیوں کی مدد کرنے کے قابل ہوگا اور اسرائیل کو درپیش خطرات بڑھ جائیں گے۔ الجزیرہ کے نامہ نگار نے لکھا کہ ڈیل کے راستے میں رکاوٹ بننے والوں میں واشنگٹن کے کچھ حلقے اور سب سے بڑھ کر اسرائیل شامل ہے۔ لبنان پر اسرائیلی جنگ کا جاری رکھنا بھی کسی حد تک اسی لیے تھا۔ تاہم اس جنگ میں جس طرح امریکا کی سبکی ہوئی، آبنائے ہرمز کھلوانے میں وہ جیسے بے بس ہوا، اس نے امریکا کے اندر پرو اسرائیل لابی کو کمزور کر دیا۔ امریکا میں پہلی بار کھلے عام اسرائیل کے خلاف بحث ہو رہی، تقریریں کی جا رہیں، آرٹیکل لکھے جا رہے۔ اسرائیل اس جنگ کا لوزر ہی ہے۔ وہ جو چاہتا تھا وہ اسے نہیں ملا۔

آگے کیا ہوگا؟

21 اپریل سے پہلے دوسرا دور اسلام آباد ہی میں ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ جنگ بندی کی مدت بڑھے گی اور یا تو اچانک ایک بڑی ڈیل ہو جائے گی یا پھر اس کے ابتدائی فریم ورک کا اعلان ہو جائے گا۔پہلی صورت میں تو اسلام آباد دنیا بھر کا مرکز بن جائے گا جبکہ دوسری صورت میں جنگ بندی میں توسیع اور مزید معاملات طے ہونے کے لیے مذاکرات کے مزید راونڈز ہوں گے۔ ایک ابتدائی فریم ورک کا اعلان ہو سکتا ہے۔ مکمل اور پائیدار ڈیل کے لیے ابھی کئی مزید مہینے لگ سکتے ہیں۔

ایک بات طے ہے: دونوں طرف سے جنگ کی مزید سکت نہیں۔ ایران معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، امریکا ٹرمپ کی ’تجارتی جنگوں‘ کے باعث پہلے ہی دباؤ میں ہے اور عالمی منڈیاں ہر خبر پر کانپتی ہیں۔ ایک تجزیہ کار نے خوب کہا: ’یہ ایک بازار ہے، دونوں فریق سودے بازی کر رہے ہیں، دروازہ بند نہیں ہوا‘۔

یہ یاد رکھیں کہ یہ ڈیل محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کی نئی تعریف ہے۔ اگر یہ گرینڈ ڈیل کامیاب ہوتی ہے تو اس کا کریڈٹ جہاں ٹرمپ اور ایرانی قیادت کو جائے گا، وہیں پاکستان کے لیے یہ ایک بہت بڑی سفارتی اور تزویراتی فتح ثابت ہوگی۔

پاکستان کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہوگا،مگر موقع سے فائدہ اٹھانا الگ فن ہے اور پاکستان کی قیادت کو اس وقت سب سے زیادہ اسی فن کی ضرورت ہے۔ ابھی تک ہماری سول ملٹری لیڈرشپ بہت اچھا کھیلی ہے، کمال مہارت کے ساتھ کارڈز کھیلے گئے۔ آگے بھی اچھی امید رکھنی چاہیے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صدر آصف زرداری کا لبنان جنگ بندی کا خیرمقدم، خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات پر زور

پاکستان کی معروف خاتون سائیکلسٹ 28 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے لیے فارن میڈیا ایکریڈیشن ہدایات جاری

نسیم شاہ پر جرمانہ پی سی بی کا فیصلہ، پنجاب حکومت کا کوئی تعلق نہیں، عظمیٰ بخاری

آزاد کشمیر انتخابات 2026: ن لیگ نے پارلیمانی بورڈ تشکیل دے دیا، نواز شریف سربراہ مقرر

ویڈیو

ترکیہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں: وزیراعظم شہباز شریف اور حاقان فیدان کی ملاقات، امریکا ایران امن معاہدے کی کوششیں تیز

افغانستان میں کامیاب کارروائی کے بعد پاکستان میں 70 فیصد دہشتگرد کارروائیوں میں کمی ہوئی، صحافیوں کی رائے

واسا لاہور عالمی سطح پر نمایاں، ٹاپ 5 واٹر یوٹیلیٹیز میں شارٹ لسٹ

کالم / تجزیہ

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘