مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

ہفتہ 18 اپریل 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے حوالے سے کوئی اچھی بات کی جائے تو ایک طبقہ طنز اچھالتا ہے کہ یہ تو ’مطالعہ پاکستان‘ ہو گیا ۔ تمام ملامتی مکتب فکر کو خبر ہو کہ مطالعہ پاکستان کا ایک ایڈیشن ہمارے عہد میں، ہمارے سامنے لکھا جا رہا ہے۔یہ مطالعہ پاکستان کا بنیان مرصوص ایڈیشن ہے۔ کوئی چاہے نہ چاہے ، اسے پڑھنا پڑے گا۔ اور کوئی راستہ ہی نہیں، اور کوئی آپشن ہی نہیں۔

ہاں تو پیارے بچو! وہ کون سا ملک تھا جس نے اس وقت تیسری عالمی جنگ رکوائی  جب اقوام متحدہ بے بس ہو چکی تھی، عالمی برادی لاتعلق ہو گئی تھیں  اور بین الاقوامی قانون کتابوں میں فن ہو چکا تھا ؟ پاکستان۔

پیارے بچو! کیا آپ اس ملک کا نام بتا سکتے ہیں جس نے ایران اور عرب دنیا  میں جنگ کروانے کی صیہونی سازش کو ناکام بنایا ِ جو دونوں کے درمیان حد فاصل بن گیا اور جس نے بیچ میں اپنے خلوص اور محبت کی ایسی دیوار کھڑی کر دی کہ جنگ کے شعلے اس کے پاس نہ جا سکے؟ جی ہاں ، وہ پاکستان ہی تھا۔

تو وہ کون سا ملک تھا جس نے امریکا اور ایران کی جنگ کے دوران، اپنی اعلیٰ ترین فوجی قیادت کو امن کی شاخ زیتون تھما کر عین اس وقت ایران بھیج دیا جب ایران میں ایران کی اپنی اعلیٰ ترین قیادت بھی محفوظ نہیں تھی۔ سپریم لیڈر، صدر ، اعلیٰ فوجی قیادت سب ٹارگٹ کیے جا چکے تھے اور  سیکیورٹی کا نظام اُدھیڑا جا چکا تھا۔  وہ کون سا ملک تھا جس نے امن اور خیر خواہی کی خاطر اتنا بڑا خطرہ مول لیا کہ اپنا فیلڈ مارشل وہاں بھیج دیا؟ متن میں صرف اتنا ہی  لکھا جائے گا کہ وہ پاکستان ہی تھا۔ ساتھ ہی مگر حاشیے میں یہ بھی درج ہو گا کہ یہ سفر جرأت اور حکمت  کا امتزاج تھا، کیونکہ جانے سے پہلے سعودیہ عرب میں طیارے تعینات کیے جا چکے تھے اور اسرائیل کو بتایا جا چکا تھا کہ کوئی حرکت کی تو تمہاری مزاج پرسی کے لیے ہمارے شاہین تمہارے پڑوس میں ہی موجود ہیں۔ تمہاری آبنائے ہرمز کو وہیں بند کر دیا جائے گا۔

مطالعہ پاکستان  میں لکھا جائے گا کہ پاکستان کا ایک ایسا فیلڈ مارشل تھا، جو جنگ کے میدان کا بھی فیلڈ مارشل تھا اور سفارتکاری کا بھی فیلڈ مارشل تھا۔ بھارت سے جنگ ہوئی تو چند گھنٹوں میں ہندتوا کی رعونت اس نے خاک میں ملا دی اور سفارتکاری کا چیلنج آیا تو اس کا دورہ ایران ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ اس دورے کی کامیابی کے سہرے اقوام عالم بلکہ خود امریکی صدر نے کہنے شروع کر دیے تھے۔

مطالعہ پاکستان میں یہ بھی درج ہو گا کہ جس آبنائے ہرمز کو امریکا کی ساری قوت بھی کھلوانے میں کامیاب نہ ہو سکی، جس کے لیے امریکا  سمندروں میں کھڑا امداد کی دُہائیاں دیتا رہا لیکن کوئی ملک اس کی مدد کو نہ آیا، جس آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا اور جو ایک تباہ کن جنگ کی بنیاد بننے والی تھی، اسے پاکستان نے اپنی سفارتکاری سے کھلوا دیا۔ یہ کیسا اعتماد تھا اور کیسا مان تھا، اس پر مطالعہ پاکستان میں ابواب باندھے جائں گے۔

مطالعہ پاکستان میں لکھا جائے گا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا بلاکس میں تقسیم تھی اور یہ تقسیم اتنی گہری تھی کہ کوئی ملک تو رہے ایک طرف، کوئی عالمی ادارہ بھی خیر خواہی کے لے دستیاب نہ تھا ، تب صرف ایک پاکستان تھا جو بیک وقت امریکا اور ایران سے بھی بات سکتا تھا اور ایران اور سعودی عرب سے بھی۔ یہ صرف پاکستان تھا جس کے ساتھ سب کا اعتماد کا رشتہ تھا۔ یہ صرف پاکستان تھا جس کی ٹرمپ بھی تعریفیں کیے جا رہا تھا اور ایرانی پارلیمان بھی تشکر پاکستان کے نعرے لگائے جا رہی تھی، یہ واحد پاکستان تھا بات چیت کے لیے جو امریکا کا بھی انتخاب تھا اور ایران کا بھی۔ امریکی صدر بھی کہہ رہے تھے مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے اور ایران بھی کہہ رہا تھا کہ ہم کہیں جا کر بات کریں گے تو وہ صرف پاکستان ہو گا۔ یہ صرف پاکستان تھا جو سراپا خیر تھا۔ جو سراپا امن تھا ۔

مطالعہ  پاکستان میں بتایا جائے گا کہ  سعودی عرب بھی پاکستان کے لیے اھلاً و سھلاً مرحبا تھا اور ایران بھی چشم ما روشن دل ما شاد کی تصویر بنا تھا، ترکیہ بھی گاردشم گاردشم کر رہا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے، یہ صرف پاکستان ہے جو ان سب کا اپنا ہے۔

مطالعہ پاکستان میں شامل ہو گا کہ ایسا کڑا وقت تھا کہ سایہ بھی ساتھ چھوڑ گیا تھا، تب یہ پاکستان تھا جو ایران پر برادرانہ محبت کی چھاؤں کیے ہوئے تھا، بھارت جیسے ملک تو پہلے ہی مرحلے مین ایران دشمن صف میں کھڑے ہو گئے، یہ صرف پاکستان تھا جس کی قوجی  قیادت نے اس مشکل گھڑی میں ایران کا دورہ کیا جب دنیا ادھر کے راستے ہی بھول چکی تھی۔

مطالعہ پاکستان میں لکھا جائے گا کہ جس پاکستان کو تنہائی کے طعنے دیے جاتے تھے، اسی پاکستان کے وزیر اعظم کا طیارہ قطر میں جاتا تھا تو سلامی دی جاتی تھی، لبنان پر اسرائیلی حملہ ہوا تو لبنان کا وزیر اعظم بھی اسی پاکستان کے وزیر اعظم کو آوازیں دے رہا تھا۔ عرب سے ترکوں تک، وہی پاکستان مرکز و محور بن گیا۔

مطالعہ پاکستان میں لکھا جائے گا کہ بنیان مرصوص کے بعد ایک نئے پاکستان نے جنم لیا۔ ایسے پاکستان نے جس پر اللہ کی مدد اتر رہی تھی اور لوگ اسے اترتا دیکھ رہے تھے۔

یہ مطالعہ پاکستان کا بنیان مرصوص ایڈیشن ہے۔ کوئی چاہے نہ چاہے ، اسے پڑھنا پڑے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ‘فیلڈ مارشل کی ٹرمپ کو فون کال

پنجاب میں ٹریفک جرمانوں میں کمی کا اطلاق تاخیر کا شکار، وجہ کیا ہے؟

سونا سستا ہوگیا، پاکستان میں فی تولہ قیمت میں کتنی کمی ہوئی؟

جاپان کی پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری بہتر بنانے کے لیے نئی کاوشیں، 4 لاکھ ڈالر فراہم کردیے

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی