روس کی ایران کو یورینیئم کی پیشکش اب بھی برقرار

اتوار 19 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روس کی سرکاری نیوکلیئر کمپنی ’روساتم‘ کے سی ای او، الیکسی لیخاچیف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کو سنبھالنے کے لیے تیار ہے، اور یہ پیشکش ابھی تک میز پر ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

الیکسی لیخاچیف نے کہا کہ روساتم ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2015 میں بھی روس نے ایران کی درخواست پر افزودہ یورینیم کو اپنے ملک منتقل کیا تھا، اور وہ آج بھی اس نازک معاملے میں تکنیکی اور اعتمادی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی کا بھی معاملہ ہے، جس کے لیے روس تیار ہے۔

ایران کا جوہری پروگرام واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی جوہری تنصیبات کو ختم کرے اور اپنے یورینیئم کا ذخیرہ امریکا کے حوالے کرے، جسے تہران نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

روس کی پیشکش، جسے ایران نے کچھ آمادگی دکھائی تھی، کرملین کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق، امریکا نے مسترد کر دی ہے۔

ایران نے یورینیئم کے ذخیرے کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کیا ہے، اسے ’ایرانی سرزمین کی طرح مقدس‘ قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وہ امریکی مطالبات کو حد سے زیادہ سمجھتے ہیں اور انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ایران نے اس کے بجائے آئی اے ای اے کی نگرانی میں اپنے یورینیئم کو ڈاؤن بلینڈ کرنے اور افزودگی پر محدود پابندیوں کی پیشکش کی ہے، لیکن وہ اپنی تنصیبات کو ختم کرنے یا اپنے ذخیرے کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کے حق میں نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp