حماس نے 2 دہائیوں بعد غزہ حکومت سے دستبرداری کا اعلان کردیا

پیر 6 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کی پٹی پر قریباً 2 دہائیوں سے حکمرانی کرنے والے اپنے انتظامی ڈھانچے کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد ایک ٹیکنوکریٹک قومی کمیٹی کے لیے سول حکومت سنبھالنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

یہ فیصلہ حماس کی جانب سے ایک اہم سیاسی تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے۔ حماس نے 2006 کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد 2007 میں حریف فلسطینی جماعت فتح سے مسلح تصادم کے نتیجے میں غزہ کا کنٹرول سنبھالا تھا اور تب سے وہ اس علاقے کا انتظام چلا رہی تھی۔

گزشتہ سال اکتوبر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد حماس متعدد بار یہ عندیہ دے چکی تھی کہ وہ روزمرہ حکومتی معاملات سے الگ ہونے کے لیے تیار ہے، تاہم تنظیم کے غیر مسلح ہونے کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا تنازع بنا ہوا ہے۔

ایمرجنسی کمیٹی تحلیل، استعفیٰ پیش

حماس کے سرکاری میڈیا آفس کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے بتایا کہ حکومتی ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفرا نے باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کمیٹی کو بھی تحلیل کردیا گیا ہے تاکہ انتظامی اور حکومتی اختیارات کی منتقلی نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کو آسانی سے کی جا سکے۔

نیشنل کمیٹی کا قیام کیسے عمل میں آیا؟

قاہرہ میں قائم نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کا قیام اس امن بورڈ کے تحت عمل میں آیا تھا، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر 2025 میں غزہ جنگ بندی کے معاہدے میں ثالثی کے بعد تشکیل دیا تھا۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہاکہ حماس نے ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے غزہ کی حکمرانی سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسرائیل کو اپنی جارحیت اور جنگ جاری رکھنے کا کوئی بہانہ نہ مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ حماس امید کرتی ہے کہ نیشنل کمیٹی جلد از جلد غزہ میں داخل ہو کر اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گی اور تنظیم اس کمیٹی کو حکومتی اختیارات منتقل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاکہ وہ کامیابی سے اپنا کام انجام دے سکے۔

فلسطینی دھڑوں کی حمایت

حماس کے ایک عہدیدار نے کہاکہ تنظیم نے حالیہ دنوں قاہرہ میں ہونے والے اجلاس کے دوران دیگر فلسطینی دھڑوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔

ان کے مطابق مختلف فلسطینی تنظیموں نے حماس کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے نیشنل کمیٹی کو حکمرانی کی ذمہ داریاں منتقل کرنے کی جانب ایک سنجیدہ پیشرفت قرار دیا۔

حماس کی 15 رکنی انتظامی کمیٹی کی تحلیل کے بعد فلسطینی ٹیکنوکریٹ علی شعث کی سربراہی میں قائم نیشنل کمیٹی کے لیے غزہ کے انتظامی امور سنبھالنے کا راستہ کھل گیا ہے۔

یہ کمیٹی کئی ماہ سے قاہرہ میں موجود ہے، تاہم اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اسے جنگ سے تباہ حال اور 21 لاکھ آبادی والے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک سیاسی تجزیہ کار نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حماس کا یہ اقدام محض ایک علامتی قدم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ حکومتی کمیٹی کی تحلیل نہیں بلکہ حماس کا غیر مسلح ہونے پر آمادہ ہونا ہے۔

انہوں نے کہاکہ حماس نے اب تک اپنے ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی، یہی معاملہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر اختلافات برقرار

حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے ثالثوں کی موجودگی میں قاہرہ میں مذاکرات کے کئی ادوار کیے ہیں تاکہ خاص طور پر جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر اختلافات کم کیے جا سکیں، جس میں حماس کے غیر مسلح ہونے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

جنگ بندی کا دوسرا تعطل کا شکار

غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں حماس نے اپنے پاس موجود آخری اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا، جس کے بدلے اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو آزادی دی۔

تاہم دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہے، حالانکہ اس مرحلے میں حماس کا غیر مسلح ہونا اور غزہ سے اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلا شامل تھا۔

اس کے برعکس حالیہ مہینوں میں اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنی موجودگی مزید بڑھا دی ہے اور اب وہ علاقے کے قریباً 70 فیصد حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔

جنگ کے بعد غزہ کا مستقبل

دوسری جانب حماس کا مطالبہ ہے کہ کسی بھی قسم کے ہتھیار حوالے کرنے پر غور کرنے سے پہلے ایک نئی فلسطینی انتظامیہ قائم کی جائے۔

جنگ کے بعد غزہ کا انتظام کس کے ہاتھ میں ہوگا، یہ بھی جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں شامل ہے۔

اسرائیل نہ تو حماس کی دوبارہ اقتدار میں واپسی قبول کرنے پر آمادہ ہے اور نہ ہی اس مرحلے پر رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کو براہ راست غزہ کا کنٹرول دینے کے حق میں ہے۔

جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات

حماس اور اسرائیل ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ بھی وزارت صحت کے اعداد و شمار کو قابل اعتماد قرار دیتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسی عرصے کے دوران غزہ میں اس کے 5 فوجی اور ایک سویلین کنٹریکٹر ہلاک ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp