جنوبی کوریا میں تھیٹر انڈسٹری اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے عالمی سطح پر اپنی پہنچ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹس آپ کو بے وقوف بنا سکتے ہیں، نئی تحقیق نے خبردار کردیا
حکومت نے اس سال کوریائی میوزیکل ڈراموں کے لیے تقریباً 18 ملین ڈالر کی فنڈنگ مختص کی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ اس سرمایہ کاری کو عالمی سامعین تک پہنچانے کے لیے ایک نئی اے آئی ٹیکنالوجی ’اُول‘ (الو)عینکیں متعارف کرائی گئی ہیں جو اسٹیج پرفارمنس کے دوران لائیو ترجمہ شدہ سب ٹائٹلز فراہم کرتی ہیں۔
یہ عینکیں ایک موبائل ایپ کے ساتھ منسلک ہوتی ہیں اور صارفین کو یہ سہولت دیتی ہیں کہ وہ کوریائی، انگریزی، جاپانی اور چینی زبانوں میں سے انتخاب کر سکیں۔
مزید پڑھیے: اسمارٹ گلاسز کا خطرناک استعمال، خواتین سوشل میڈیا پر ہراسانی کا شکار
اس کا سب سے خاص پہلو اس میں استعمال ہونے والی مصنوعی ذہانت ہے جو اداکاروں کے مکالموں کو خودکار طور پر پہچان کر فوری طور پر ترجمہ شدہ متن عینک کے شیشے پر ظاہر کرتی ہے۔ اس سے ناظرین اسٹیج سے نظریں ہٹائے بغیر کہانی کو مکمل طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: گوگل کا پھر اسمارٹ چشمے لانے کا اعلان، کیا یہ کاوش کامیاب ہوجائے گی؟
اگرچہ ابتدائی تجربات میں کچھ تکنیکی مسائل جیسے تاخیر اور ہم آہنگی کے مسائل سامنے آئے تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس نظام کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ یہ زیادہ مؤثر اور قابل اعتماد ہو سکے۔













