گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈکیتی کے دوران قتل ہونیوالے ڈاکٹر آکاش کمار کے کیس نے ایک بار پھر نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔
کراچی پولیس نے اس قتل میں ملوث 3 ملزمان کو ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کرکے میڈیا کے سامنے پیش بھی کیا تھا تاہم اب انہی ملزمان کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
گلشن معمار میں کیا ہوا؟
پولیس کے مطابق گلشن معمار کے علاقے عمر بروہی گوٹھ میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ یعنی ایس آئی یو کی ٹیم گرفتار ملزمان کو ان کے مبینہ ساتھیوں اور دیگر شواہد کی نشاندہی کے لیے لے گئی تھی۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ اسی دوران پہلے سے موجود مسلح افراد نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی، جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: کلفٹن میں بینک کے باہر ڈکیتی کے دوران فائرنگ، ڈاکٹر جاں بحق، 25 لاکھ روپے لوٹ لیے گئے
پولیس کے مطابق اس مبینہ مقابلے میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ملزمان ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔
زخمی اہلکار کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی، پولیس کے مطابق حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور ان کی تلاش جاری ہے۔
بریکنگ نیوز۔۔۔۔
ڈاکٹر آکاش قتل میں گرفتار تینوں ملزمان پولیس مقابلے میں مارے گئے ، تینوں ملزمان جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے پاس تھے
تینوں ملزمان کو آج عدالت میں پیش کیا جانا تھا pic.twitter.com/hzAS78DGb9— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) July 23, 2026
ریسکیو حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت سوریش ولد امر چند، رام چند ولد سونو اور انیل ولد میر چند کے ناموں سے ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں کا تعلق اوڈھ قبیلے سے تھا۔
ڈاکٹرآکاش قتل کیس کیا تھا؟
چند روز قبل کراچی کے علاقے کلفٹن میں ایک نجی بینک کے باہر ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کی گئی، جس میں ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس واقعے نے شہر بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔
بعد ازاں ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ پولیس نے اس کیس میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہی تینوں ملزمان بعد میں گلشن معمار میں ہونے والے مبینہ مقابلے میں ہلاک ہوئے۔
لیکن اب کئی سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں
پولیس کا مؤقف اپنی جگہ موجود ہے، تاہم اس واقعے نے کئی ایسے سوالات کو جنم دیا ہے جن پر شفاف تحقیقات ضروری دکھائی دیتی ہیں۔
اگر حملہ واقعی ملزمان کے ساتھیوں نے کیا تھا تو فائرنگ میں صرف زیرِ حراست تینوں ملزمان ہی کیوں مارے گئے؟ حملہ آوروں میں سے کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع کیوں سامنے نہیں آئی؟
مزید پڑھیں: کراچی میں ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، سی سی ٹی وی کی مدد سے 3 ملزمان گرفتار
اگر یہی ملزمان اس قتل کیس کے مرکزی کردار تھے تو کیا ان سے مزید تفتیش کے ذریعے کسی بڑے گروہ یا منصوبہ ساز تک پہنچا جا سکتا تھا؟ ان کی ہلاکت کے بعد کیا اس کیس کے کچھ اہم پہلو ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئے؟
اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ اتنے حساس مقدمے کے ملزمان کو نشاندہی کے لیے لے جاتے وقت حفاظتی انتظامات کس نوعیت کے تھے، اور کیا ممکنہ حملے کے خدشات سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات کیے گئے تھے؟
حقیقت کیا ہے؟
فی الحال پولیس کا مؤقف ریکارڈ پر موجود ہے، جبکہ ان سوالات کے جوابات سامنے آنا باقی ہیں۔
کسی بھی سازش یا غیر قانونی کارروائی کا دعویٰ بغیر ثبوت نہیں کیا جا سکتا، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ اس واقعے نے عوام کے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
اب نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا اس مبینہ مقابلے کی آزادانہ تحقیقات ہوتی ہیں یا نہیں، کیونکہ ایسے سوالات کے واضح اور شفاف جواب ہی عوامی اعتماد کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔














