گزشتہ ایک سال سے مانچسٹر سے تعلق رکھنے والی ایبی اپنی صحت کے مسائل سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی استعمال کر رہی ہیں جو آج کے مقبول ترین مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طبی مشوروں کے لیے ’چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ‘ متعارف کرانے کا اعلان
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی کشش واضح ہے۔ کئی ممالک میں ڈاکٹر سے اپوائنٹمنٹ لینا مشکل ہو جاتا ہے جبکہ مصنوعی ذہانت ہر وقت دستیاب رہتی ہے۔ مزید یہ کہ اے آئی سسٹمز نے بعض طبی امتحانات میں بھی حیران کن کارکردگی دکھائی ہے، جس سے اس پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔
تاہم اہم سوال یہ ہے کہ کیا چیٹ جی پی ٹی، جیمنی اور گروک جیسے چیٹ بوٹس پر صحت سے متعلق مشوروں کے لیے بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ روایتی انٹرنیٹ سرچ سے مختلف ہیں یا پھر بعض ماہرین کے مطابق یہ غلط اور خطرناک مشورے دے کر انسانی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں؟
ایبی جو خود اینگزائٹی کا شکار ہیں کہتی ہیں کہ چیٹ بوٹ انہیں زیادہ ذاتی نوعیت کے مشورے دیتا ہے جبکہ عام سرچ انہیں اکثر انتہائی خوفناک نتائج کی طرف لے جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ تجربہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ڈاکٹر کے ساتھ مل کر مسئلہ حل کیا جا رہا ہو۔
انہوں نے بتایا کہ جب انہیں پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا شبہ ہوا تو چیٹ بوٹ نے انہیں فارماسسٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جہاں سے انہیں اینٹی بایوٹک دی گئی۔
مزید پڑھیے: چیٹ بوٹ سے محبت: خاتون کو مشینی محبوب کی رخصتی کا خوف
ان کے مطابق اس مشورے نے انہیں صحیح علاج تک پہنچنے میں مدد دی اور انہیں یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ غیر ضروری طور پر ڈاکٹرز کا وقت لے رہی ہیں۔
لیکن ایک اور واقعے میں جب وہ ہائیکنگ کے دوران گر گئیں اور شدید درد محسوس ہوا تو چیٹ بوٹ نے انہیں فوراً ایمرجنسی جانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ممکن ہے کسی اندرونی عضو کو نقصان پہنچا ہو۔ بعد میں اسپتال میں معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ صورتحال اتنی خطرناک نہیں تھی اور چیٹ بوٹ کی تشخیص غلط تھی۔
ایبی کہتی ہیں کہ چیٹ جی پی ٹی نے واضح طور پر غلط اندازہ لگایا تھا اور اس لیے اے آئی مشوروں کو ہمیشہ احتیاط سے لینا چاہیے۔
یہ بھی واضح نہیں کہ کتنے لوگ صحت کے لیے چیٹ بوٹس پر انحصار کر رہے ہیں لیکن یہ ٹیکنالوجی تیزی سے عام ہو رہی ہے اور اب اکثر انٹرنیٹ سرچ کے نتائج میں بھی اے آئی سے تیار کردہ جوابات شامل ہوتے ہیں۔
برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر سر کرس وِٹی نے خبردار کیا ہے کہ یہ سسٹمز اکثر پراعتماد انداز میں غلط جواب دیتے ہیں جو عوام کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
پرومپٹ کی اہمیت
جب ہم کسی چیٹ بوٹ سے کوئی بات پوچھتے ہیں تو اس میں پرومٹ کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے (یعنی ہم اس سے جو سوال پوچھتے ہیں یا ہدایت دیتے ہیں)۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ جب چیٹ بوٹس کو مکمل اور واضح طبی معلومات دی جائیں تو وہ 95 فیصد تک درست جواب دے سکتے ہیں لیکن جب عام افراد بات چیت کے ذریعے علامات بیان کرتے ہیں تو درستگی کم ہو کر صرف 35 فیصد رہ جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ لوگ چیٹ بوٹس سے بات کرتے ہوئے معلومات مکمل طور پر فراہم نہیں کرتے، جس کی وجہ سے غلط تشخیص کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
ایک الگ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جب چیٹ بوٹس کو جان بوجھ کر گمراہ کن سوالات دیے گئے تو انہوں نے بعض اوقات غیر سائنسی اور غلط علاج بھی تجویز کیے جس سے ان کی کمزوری واضح ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام دراصل زبان کے انداز اور پیٹرنز کی بنیاد پر جواب دیتا ہے نہ کہ حقیقی طبی سمجھ بوجھ کی بنیاد پر اس لیے اسے احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹس پر اندھا اعتماد خطرناک، آپ کی گفتگو عدالت میں پیش ہو سکتی ہے، ماہرین کی تنبیہ
ایبی کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی اے آئی استعمال کرتی ہیں لیکن ہر بات کو شک کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ یہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔














