ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور محاصرے کے ذریعے مذاکراتی عمل کو دباؤ میں لا کر ایران کو ہتھیار ڈالن پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترامپ با اعمال محاصره و نقض آتشبس میخواهد تا به خیال خود این میز مذاکره را به میز تسلیم تبدیل کند یا جنگافروزی مجدد را موجّه سازد.
مذاکره زیر سایهٔ تهدید را نمیپذیریم و در دو هفتهٔ اخیر برای رو کردن کارتهای جدید در میدان نبرد آماده شدهایم.— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 20, 2026
اپنے سوشل میڈیا بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا مذاکراتی میز کو اپنے مفاد کے مطابق تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے ایک ایسے پلیٹ فارم میں بدلنا چاہتا ہے جہاں ایران پر دباؤ ڈال کر اسے یکطرفہ شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کی نئی تجاویز ایران کو موصول، مذاکرات میں پیشرفت مگر حتمی معاہدہ تاحال دور ہے، باقر قالیباف
انہوں نے کہا کہ تہران ایسے کسی بھی مذاکرات کو قبول نہیں کرتا جو دھمکیوں اور دباؤ کے سائے میں کیے جائیں۔ ان کے مطابق ایران پر عائد دباؤ اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی دراصل سفارتی عمل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
قالیباف نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ایران نے میدانِ جنگ میں اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کیا ہے اور نئے کارڈز سامنے لانے کے لیے مکمل تیاری کر رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسے مذاکرات کو قبول کیا جائے گا جو یکطرفہ دباؤ پر مبنی ہوں۔














