جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی دراصل سفارتی عمل کو نقصان پہنچا رہی ہے، باقر قالیباف

منگل 21 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور محاصرے کے ذریعے مذاکراتی عمل کو دباؤ میں لا کر ایران کو ہتھیار ڈالن پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اپنے سوشل میڈیا بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا مذاکراتی میز کو اپنے مفاد کے مطابق تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے ایک ایسے پلیٹ فارم میں بدلنا چاہتا ہے جہاں ایران پر دباؤ ڈال کر اسے یکطرفہ شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کی نئی تجاویز ایران کو موصول، مذاکرات میں پیشرفت مگر حتمی معاہدہ تاحال دور ہے، باقر قالیباف

انہوں نے کہا کہ تہران ایسے کسی بھی مذاکرات کو قبول نہیں کرتا جو دھمکیوں اور دباؤ کے سائے میں کیے جائیں۔ ان کے مطابق ایران پر عائد دباؤ اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی دراصل سفارتی عمل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

قالیباف نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ایران نے میدانِ جنگ میں اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کیا ہے اور نئے کارڈز سامنے لانے کے لیے مکمل تیاری کر رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسے مذاکرات کو قبول کیا جائے گا جو یکطرفہ دباؤ پر مبنی ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp