ایران نے امریکا کی جانب سے موصول ہونے والی نئی تجاویز کا جائزہ شروع کر دیا ہے جبکہ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدہ اب بھی دور ہے، اس تمام عمل میں پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے حالیہ دنوں میں نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں جن کا اس وقت جائزہ لیا جا رہا ہے اور ابھی تک ان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا گیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ یہ تجاویز پاکستانی فوج کے سربراہ کی تہران میں موجودگی اور مذاکراتی عمل میں ثالثی کردار کے دوران سامنے آئیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران سے بہت اچھے مذاکرات چل رہے ہیں، آج اہم معلومات کا اعلان کروں گا، ڈونلڈ ٹرمپ
ایرانی حکام نے واضح کیا کہ ان کا مذاکراتی وفد قومی مفادات کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ، پسپائی یا نرمی اختیار نہیں کرے گا اور ہر صورت ایران کے مفادات کا دفاع کیا جائے گا۔ پاکستان اس پورے عمل میں مرکزی ثالث کے طور پر ابھرا ہے اور گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی بھی کر چکا ہے، تاہم وہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے۔
دوسری جانب ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے لیکن دونوں فریق اب بھی حتمی معاہدے سے کافی دور ہیں۔ انہوں نے ایک ٹی وی خطاب میں کہا کہ مذاکرات میں پیشرفت ضرور ہوئی مگر اب بھی کئی اہم نکات پر اختلافات موجود ہیں اور کئی بنیادی معاملات حل طلب ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا جنگ رکوانے کے لیے پاکستان کے 3 بڑوں نے کتنے ہزار کلومیٹر سفر کیا؟
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے امریکی ناکہ بندی کے تناظر میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو دباؤ کے طور پر استعمال نہ کرے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے تک آبنائے ہرمز میں آمدورفت کی نگرانی جاری رکھی جائے گی۔













