کیوبا نے حال ہی میں ہوانا میں امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کی ہے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی پابندیوں کے معاملے پر کشیدگی ختم کی جاسکے۔
کیوبا کی وزارتِ خارجہ کے امریکی امور کے نائب ڈائریکٹر الیخاندرو گارشیا ڈیل ٹورو نے بتایا کہ امریکی وفد میں اسسٹنٹ سیکریٹریز آف اسٹیٹ شامل تھے، جبکہ کیوبا کی نمائندگی نائب وزیر خارجہ سطح کے حکام نے کی۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا نے توانائی پابندی ختم کرنے کو کیوبا کی قیادت میں تبدیلی سے مشروط کردیا
انہوں نے کہا کہ ملاقات خوشگوار، باوقار اور پیشہ ورانہ ماحول میں ہوئی اور امریکی وفد کی جانب سے کوئی دھمکی یا آخری مہلت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق مذاکرات میں سب سے اہم مطالبہ امریکا کی جانب سے عائد 3 ماہ پرانی تیل پابندی کا خاتمہ تھا، جس نے کیوبا کی معیشت اور توانائی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
کیوبا نے امریکی اقدامات کو معاشی دباؤ اور عالمی بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خودمختار ممالک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آزاد تجارت کے اصولوں کے تحت کیوبا کو ایندھن فراہم کریں۔ سرکاری اخبار گرانما کے مطابق، کیوبا نے واضح کیا کہ یہ پابندیاں عام شہریوں کے لیے اجتماعی سزا کے مترادف ہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، واشنگٹن نے مذاکرات کے تسلسل کے لیے کچھ شرائط پیش کیں، جن میں سیاسی قیدیوں کی رہائی، سیاسی دباؤ کا خاتمہ اور معیشت میں اصلاحات شامل ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکا نے اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس کی اجازت اور امریکی شہریوں و کمپنیوں کے ضبط شدہ اثاثوں کے معاوضے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیوبا کو تیل کی فراہمی روکنے کا امریکی منصوبہ، حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوشش
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کیوبا کے خلاف سخت بیانات دے چکے ہیں اور ان ممالک پر ٹیرف لگانے کی دھمکی دے چکے ہیں جو کیوبا کو تیل فراہم کرتے ہیں۔ اس صورتحال پر میکسیکو، اسپین اور برازیل نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے باعزت اور مخلصانہ مذاکرات پر زور دیا ہے، جبکہ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ کیوبا پر فوجی حملے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔













