ہنگری کے نومنتخب وزیرِاعظم پیٹر ماگیار نے کہا ہے کہ وہ ملک کی انٹرنیشنل کریمنل کورٹ یعنی آئی سی سی سے علیحدگی روک دیں گے، جس کے بعد عدالت کو مطلوب افراد اگر ہنگری آئے تو انہیں گرفتار کیا جا سکے گا۔
بوداپیسٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیٹر ماگیار نے کہا کہ انہوں نے یہ بات اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو بھی واضح کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ہنگری میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ وزیراعظم کے 16 سالہ اقتدار کا خاتمہ، اپوزیشن کی تاریخی فتح
انہوں نے کہا کہ اگر ہنگری آئی سی سی کا رکن ہے اور عدالت کو مطلوب کوئی شخص ہنگری کی سرزمین پر داخل ہوتا ہے، تو قانون کے مطابق اسے حراست میں لینا ہوگا۔
یاد رہے کہ نیتن یاہو کے خلاف 2024 میں غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے الزام پر آئی سی سی نے وارنٹ جاری کیا تھا۔
سابق وزیرِاعظم وکٹر اوربان نے گزشتہ سال ہنگری کو آئی سی سی سے نکالنے کا اعلان کیا تھا، کیونکہ وہ نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ سے اختلاف رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: نیتن یاہو ’ہٹلر‘ ہیں، اسرائیل میں گھس کر ماریں گے، ترک صدر اردوان
یہ علیحدگی 2 جون سے نافذ ہونا تھی، تاہم پیٹر ماگیار نے کہا کہ ان کی حکومت اس فیصلے کو روک دے گی۔
پیٹر ماگیار کی جماعت تیسزا پارٹی نے حالیہ انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے، جس کے بعد وکٹر اوربان کے 16 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہو رہا ہے۔














