امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث بدھ کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان دیکھنے میں آیا۔
بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 1 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔
ٹریڈنگ کے ابتدائی اوقات میں انڈیکس میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جہاں ابتدا میں تیزی کے بعد تیزی سے گراوٹ آئی، جو فروخت کے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
بعد ازاں مارکیٹ میں جزوی بحالی دیکھنے میں آئی اور انڈیکس نے انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 173,452.66 پوائنٹس تک پہنچنے کی کوشش کی۔
تاہم، مارکیٹ اس تیزی کو برقرار نہ رکھ سکی اور ٹریڈنگ کے آخری اوقات میں مسلسل تنزلی کا شکار رہی۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,576.49 پوائنٹس یعنی 0.91 فیصد کمی کے ساتھ 171,579.30 پوائنٹس پر بند ہوا۔
Market is down at midday 🔻
⏳ KSE 100 is negative by -145.78 points (-0.08%) at midday trading. Index is at 173,010.01 and volume so far is 158.85 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/xyufmlwtxh— Investify Pakistan (@investifypk) April 22, 2026
اس سے ایک روز قبل منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مارکیٹ مثبت زون میں بند ہوئی تھی۔
جہاں محتاط سرمایہ کارانہ رجحان کے باوجود کے ایس ای 100 انڈیکس نے 959 پوائنٹس یعنی 0.56 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 173,155.79 پوائنٹس پر اختتام کیا تھا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ کریش: جنگ کے خدشات یا تیل کی قیمتوں کا دباؤ؟
عالمی سطح پر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کے اعلان کے بعد بدھ کو امریکی اسٹاک فیوچرز میں اضافہ دیکھا گیا۔
جبکہ ڈالر میں اتار چڑھاؤ رہا، اس اعلان سے مارکیٹ کا اعتماد بہتر رہا، اگرچہ آبنائے ہرمز بند ہونے کے باعث تیل کی قیمتیں اپنی حالیہ سطح پر برقرار رہیں۔

صدر ٹرمپ کا اعلان یکطرفہ معلوم ہوتا ہے، اور یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ایران یا امریکی اتحادی اسرائیل اس جنگ بندی میں توسیع پر متفق ہوں گے یا نہیں۔
اس کے باوجود، عالمی منڈیوں نے اس خبر کو مثبت انداز میں لیا اور رسک لینے کا رجحان برقرار رہا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ ایک مرتبہ پھر مندی کا شکار، انڈیکس میں 1700 سے زائد پوائنٹس کی کمی
ابتدائی ایشیائی اوقات میں ایس اینڈ پی فیوچرز میں 0.5 فیصد اور نیسڈیک فیوچرز میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک شیئرز کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.14 فیصد کمی کے ساتھ رہا، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 7 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا۔
جاپان کا نکی انڈیکس 0.2 فیصد نیچے آیا کیونکہ سرمایہ کاروں نے حالیہ منافع کو مستحکم کیا۔














