انٹرنیٹ ٹریفک کی لوکلائزیشن لازمی، پی ٹی اے کا نیا فریم ورک نافذ

بدھ 22 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے نئے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت تمام لائسنس یافتہ ٹیلی کام آپریٹرز کو پابند کیا ہے کہ وہ ملکی انٹرنیٹ ٹریفک کو یا تو براہِ راست لوکل پیئرنگ کے ذریعے یا انٹرنیٹ ایکسچینج پوائنٹس کے ذریعے آپس میں شیئر کریں۔

نئے قواعد کے مطابق اب ملکی انٹرنیٹ ڈیٹا کو انٹرنیشنل گیٹ ویز سے گزارنا ممنوع ہوگا، اس اقدام کا مقصد نہ صرف اخراجات میں کمی لانا ہے بلکہ ڈیٹا سیکیورٹی کو بھی بہتر بنانا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق اس پالیسی سے پاکستان میں انٹرنیٹ ٹریفک پر بیرونی انحصار کم ہوگا اور ڈیٹا کا بہاؤ زیادہ محفوظ اور مؤثر بنے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے نے تمام پاکستانیوں کے لیے مفت انٹرنیٹ اور منٹس کا اعلان کر دیا، جانیں کیسے؟

اس سے ٹیلی کام کمپنیوں کے آپریشنل اخراجات میں کمی اور مجموعی کارکردگی میں بہتری کی توقع ہے۔

نئے فریم ورک میں انٹرنیٹ ایکسچینج پوائنٹس کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، جہاں مختلف نیٹ ورکس آپس میں جڑ کر ڈیٹا شیئر کریں گے۔

آپریٹرز کو اجازت ہے کہ وہ مشترکہ طور پر یہ مراکز قائم کریں یا کسی تیسرے فریق کو انتظام سونپیں، تاہم اس کے لیے پی ٹی اے کی منظوری لازمی ہوگی۔

مزید پڑھیں: سسٹم میں عارضی بینڈوتھ کا اضافہ، اب انٹرنیٹ سروسز متاثر نہیں ہوں گی، پی ٹی اے

اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ ان تمام انٹرنیٹ ایکسچینج پوائنٹس کو شفاف اور غیر امتیازی اصولوں کے تحت چلایا جائے گا تاکہ کسی بھی بڑے ادارے کو غیر منصفانہ برتری حاصل نہ ہو۔

پی ٹی اے کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ ملک کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ ایکسچینج پوائنٹس کے قیام کی ہدایت دے سکے۔

نئی پالیسی میں کنٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک کے استعمال کو بھی فروغ دیا گیا ہے تاکہ انٹرنیٹ مواد تیزی سے صارفین تک پہنچ سکے اور بین الاقوامی بینڈوڈتھ پر دباؤ کم ہو۔

مزید پڑھیں: انٹرنیٹ سست روی کا کیا نتیجہ نکلا؟ پی ٹی اے نے بتادیا

تاہم ان کے لیے پی ٹی اے کو پیشگی اطلاع دینا ضروری ہوگا اور غیر قانونی مواد پر مکمل پابندی ہوگی۔

پی ٹی اے نے اس نظام کی نگرانی اور نفاذ کے لیے سخت اختیارات بھی حاصل کیے ہیں۔

اتھارٹی ٹریفک ڈیٹا کا معائنہ کر سکتی ہے، ریکارڈ طلب کر سکتی ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی یا ٹریفک بند کرنے تک کے اقدامات کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:’اے آئی سیکھو 2026‘ پروگرام کا آغاز، پاکستانی نوجوانوں کے لیے مفت مصنوعی ذہانت کی تربیت

مجموعی طور پر یہ پالیسی پاکستان میں ڈیجیٹل خودمختاری کی طرف ایک اہم قدم ہے، جس سے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر مزید مضبوط اور تیز ہونے کی توقع ہے۔

تاہم اس کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور صنعت کی مکمل ہم آہنگی ضروری ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

برطانیہ کے 5 لاکھ افراد کا طبی ڈیٹا لیک، چینی ویب سائٹ پر فروخت کے لیے پیش

وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری کے دوران امریکی فوجی نے کیسے لاکھوں ڈالرز کمائے؟

’یہ خود کو جان بوجھ کر مظلوم ظاہر کرتے ہیں‘، امریکی گلوکار کی امریکی صیہونیوں پر شدید تنقید

پاکستان نے یو اے ای کے 3.45 ارب ڈالر کے ڈپازٹس مکمل واپس کر دیے

برطانیہ اور فرانس کی آبنائے ہرمز سیکیورٹی منصوبے پر پیشرفت، 44 ممالک لندن مذاکرات میں شریک

ویڈیو

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار