پی ٹی اے کے مطابق اس پالیسی سے پاکستان میں انٹرنیٹ ٹریفک پر بیرونی انحصار کم ہوگا اور ڈیٹا کا بہاؤ زیادہ محفوظ اور مؤثر بنے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے نے تمام پاکستانیوں کے لیے مفت انٹرنیٹ اور منٹس کا اعلان کر دیا، جانیں کیسے؟
اس سے ٹیلی کام کمپنیوں کے آپریشنل اخراجات میں کمی اور مجموعی کارکردگی میں بہتری کی توقع ہے۔
نئے فریم ورک میں انٹرنیٹ ایکسچینج پوائنٹس کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، جہاں مختلف نیٹ ورکس آپس میں جڑ کر ڈیٹا شیئر کریں گے۔
آپریٹرز کو اجازت ہے کہ وہ مشترکہ طور پر یہ مراکز قائم کریں یا کسی تیسرے فریق کو انتظام سونپیں، تاہم اس کے لیے پی ٹی اے کی منظوری لازمی ہوگی۔
مزید پڑھیں: سسٹم میں عارضی بینڈوتھ کا اضافہ، اب انٹرنیٹ سروسز متاثر نہیں ہوں گی، پی ٹی اے
اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ ان تمام انٹرنیٹ ایکسچینج پوائنٹس کو شفاف اور غیر امتیازی اصولوں کے تحت چلایا جائے گا تاکہ کسی بھی بڑے ادارے کو غیر منصفانہ برتری حاصل نہ ہو۔
پی ٹی اے کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ ملک کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ ایکسچینج پوائنٹس کے قیام کی ہدایت دے سکے۔
نئی پالیسی میں کنٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک کے استعمال کو بھی فروغ دیا گیا ہے تاکہ انٹرنیٹ مواد تیزی سے صارفین تک پہنچ سکے اور بین الاقوامی بینڈوڈتھ پر دباؤ کم ہو۔
مزید پڑھیں: انٹرنیٹ سست روی کا کیا نتیجہ نکلا؟ پی ٹی اے نے بتادیا
تاہم ان کے لیے پی ٹی اے کو پیشگی اطلاع دینا ضروری ہوگا اور غیر قانونی مواد پر مکمل پابندی ہوگی۔
پی ٹی اے نے اس نظام کی نگرانی اور نفاذ کے لیے سخت اختیارات بھی حاصل کیے ہیں۔
اتھارٹی ٹریفک ڈیٹا کا معائنہ کر سکتی ہے، ریکارڈ طلب کر سکتی ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی یا ٹریفک بند کرنے تک کے اقدامات کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:’اے آئی سیکھو 2026‘ پروگرام کا آغاز، پاکستانی نوجوانوں کے لیے مفت مصنوعی ذہانت کی تربیت
مجموعی طور پر یہ پالیسی پاکستان میں ڈیجیٹل خودمختاری کی طرف ایک اہم قدم ہے، جس سے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر مزید مضبوط اور تیز ہونے کی توقع ہے۔
تاہم اس کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور صنعت کی مکمل ہم آہنگی ضروری ہوگی۔