ملا معتصم کی گرفتاری اور رہائی، افغان طالبان کی صفوں میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

بدھ 22 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میں طالبان کے اندرونی معاملات سے متعلق ایک رپورٹ سامنے آئی ہے، جس کے مطابق بانی رہنما ملا معتصم کی گرفتاری اور بعد ازاں رہائی نے تنظیم کے اندر موجود دھڑے بندیوں اور داخلی کشیدگی کو نمایاں کیا ہے۔

طالبان نے ابتدائی طور پر ملا معتصم کی گرفتاری کی تردید کی، تاہم بعد میں یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔

یہ پیش رفت مبینہ طور پر اس وقت سامنے آئی جب معتصم نے ملا برادر کے خلاف بیانات دیے، جس کے بعد تنظیمی قیادت میں اختلافات مزید واضح ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ملا معتصم کو طالبان سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کے براہ راست احکامات پر ایک خصوصی یونٹ نے حراست میں لیا۔ ان پر اندرونی سطح پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ طالبان صفوں میں تقسیم پیدا کر رہے تھے اور اپنے قریبی افراد کو مسلح کرنے میں معاونت کررہے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرفتاری کے بعد طالبان حکام نے قندھار اور کابل میں اپنے ہی بعض ارکان کے گھروں اور ٹھکانوں پر چھاپے مارے، جن کا مقصد مبینہ طور پر ملا معتصم سے منسلک نیٹ ورک کو غیر مسلح کرنا تھا۔ اس کارروائی نے تنظیم کے اندر مزید سیکیورٹی خدشات اور عدم اعتماد کو جنم دیا۔

ملا معتصم، جو ماضی میں قطر میں قائم شوریٰ کا حصہ رہ چکے ہیں، طویل عرصے سے طالبان قیادت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کے بعض علاقائی اور غیر ملکی حلقوں سے روابط بھی تنظیم کے اندر شکوک و شبہات کا سبب بنتے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق انہیں پہلے بھی مبینہ طور پر غیر ملکی انٹیلی جنس سے روابط کے شبے میں تنظیمی ڈھانچے سے الگ کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں دوبارہ افغانستان لایا گیا، جس میں مبینہ طور پر طالبان رہنما ملا یعقوب کا کردار بھی بتایا جاتا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں ان کے بعض کابل میں موجود دھڑوں سے روابط اور ملا ہیبت اللہ مخالف گروپوں سے قربت کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

ان کی گرفتاری کی فوری وجہ مبینہ طور پر ملا برادر کے خلاف نازیبا ریمارکس بنے۔ تاہم بعد ازاں حقانی نیٹ ورک کی ضمانت پر انہیں رہا کر دیا گیا، جس سے طالبان کے مختلف دھڑوں کے درمیان طاقت کے توازن اور اندرونی مذاکرات کی نشاندہی ہوتی ہے۔

طالبان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم غیر رسمی طور پر اسے ایک غلط فہمی قرار دیا گیا ہے اور متعلقہ کمانڈر کو مبینہ طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ طالبان کے اندر جاری اندرونی اختلافات اور دھڑے بندیوں کی نشاندہی کرتا ہے، جنہیں بظاہر کنٹرولڈ بیانیے کے ذریعے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انتخابات تک آزاد کشمیر میں رہوں گا، احتجاج ختم کرکے مذاکرات کیے جائیں، بلاول بھٹو

فرانس کا عالمی چیمپئن بننے کا خواب چکنا چور، اسپین فائنل میں پہنچ گیا

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی جوڈیشل کمیٹی قائم، یہ کیسے کام کرے گی اور اس کے اختیارات کیا ہوں گے؟

پیپلز پارٹی کا 40 برس بعد مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان، بلاول بھٹو کے لیے یہ سیاسی امتحان کتنا اہم؟

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!