امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

جمعرات 23 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے، جہاں پاکستان بطور میزبان اہم سفارتی کردار ادا کررہا ہے۔ حکومتی سطح پر شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور دیگر سرکاری عہدیداران خاصے متحرک دکھائی دے رہے ہیں، تاہم حکمران اتحاد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم دور میں وزیر خارجہ رہنے والے بلاول بھٹو زرداری بظاہر فرنٹ لائن پر نظر نہیں آ رہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے کہاکہ چونکہ پارٹی اس وقت حکومت میں کسی کلیدی عہدے پر فائز نہیں، اس لیے مذاکراتی عمل میں براہِ راست شرکت ممکن نہیں۔

مزید پڑھیں: کیا آنے والے 2 سے 3 دن میں ایران امریکا مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے؟

انہوں نے کہاکہ یہ عمل بنیادی طور پر وزیر خارجہ، نائب وزیراعظم اور وزیراعظم جیسے عہدیداران تک محدود ہوتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری بطور سابق وزیر خارجہ اس عمل کا باضابطہ حصہ نہیں بن سکتے، تاہم وہ مختلف پلیٹ فارمز پر پاکستان کا مؤقف پیش کررہے ہیں، جن میں عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا شامل ہیں۔

سحر کامران کے مطابق پارٹی کے دیگر رہنما جیسے شیری رحمان اور سلیم مانڈوی والا بھی الجزیرہ جیسے بین الاقوامی میڈیا پر اپنی رائے دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی مسلسل ریاستی مؤقف کی حمایت کر رہی ہے، مگر چونکہ مذاکرات انتہائی خفیہ نوعیت کے ہیں، اس لیے اس کی تفصیلات عوام تک نہیں پہنچ رہیں۔

سحر کامران نے پیپلز پارٹی کے سفارتی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے ماضی کی قیادت کا حوالہ بھی دیا۔

انہوں نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو کے جوہری پروگرام سے لے کر بینظیر بھٹو کی عالمی سطح پر پہچان تک، پارٹی اپنی خارجہ پالیسی کی تاریخ کو اہم قرار دیتی ہے۔

انہوں نے آصف علی زرداری کے دور میں علاقائی تعلقات، شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت اور چین کے ساتھ اقتصادی روابط جیسے اقدامات کو بھی نمایاں کیا گیا۔

سینیئر تجزیہ کار ضیغم خان نے کہاکہ پیپلز پارٹی چونکہ کابینہ کا حصہ نہیں، اس لیے اس کا براہِ راست کردار محدود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی ایک متوازن پوزیشن اختیار کیے ہوئے ہے جہاں وہ بعض معاملات میں حکومت کی حمایت کرتی ہے، کچھ پر تنقید، اور کچھ پر خاموشی۔ یہ مذاکرات ریاستی سطح کا معاملہ ہیں، اور تمام سیاسی قوتیں مجموعی طور پر اس عمل کی حمایت کررہی ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی کے تناظر میں سفارتی روابط تیز، ایرانی سفیر کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات

ضیغم خان نے کہاکہ اگرچہ پیپلز پارٹی مذاکراتی میز پر نظر نہیں آ رہی، لیکن وہ پسِ پردہ سفارتی، سیاسی اور بیانیہ سازی کے ذریعے اپنا کردار ادا کر رہی ہے، پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ وہ قومی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور امن کے اس عمل میں مثبت کردار جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی خود بھی اس سارے معاملے پر سامنے نہیں آنا چاہ رہی ہے، اس وقت صرف آفس ہولڈرز سرگرم ہیں ماضی کے وزیر خارجہ یا دیگر اس میں ابھی اپنا کردار ادا نہیں کر سکتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘