پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان 60 سالہ تعلقات کے تسلسل میں اسلام آباد میں 28 اور 29 اپریل کو اعلیٰ سطحی یورپی یونین۔پاکستان بزنس فورم 2026 منعقد ہوگا، جس میں سرمایہ کاری، تجارت اور باہمی اقتصادی تعاون کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:یورپی یونین کا پاکستان کے لیے کاروباری ماحول میں اصلاحات کے لیے 20 ملین یوروز کے گرانٹ کا اعلان
یہ فورم یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے تعاون سے حکومت پاکستان کے اشتراک سے منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا افتتاح وزیر اعظم شہباز شریف کریں گے۔ اس اہم تقریب کا مقصد دونوں خطوں کے درمیان کاروباری روابط کو مضبوط بنانا، سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا اور پالیسی سطح پر مکالمے کو فروغ دینا ہے۔
حکام کے مطابق فورم میں یورپی اور پاکستانی کمپنیوں، سرمایہ کاروں، حکومتی نمائندوں اور مالیاتی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے گا، جہاں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال ہوگا۔ ان شعبوں میں زراعت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، گرین لاجسٹکس، توانائی، ٹیکسٹائل اور کان کنی شامل ہیں۔

فورم کے دوران یورپی یونین کی ’گلوبل گیٹ وے‘ حکمت عملی اور جی ایس پی پلس سہولت کو بھی اجاگر کیا جائے گا، جس کے تحت پاکستانی برآمدات کو یورپی منڈیوں تک ترجیحی رسائی حاصل ہے۔ حکام کے مطابق 2014 کے بعد سے جی ایس پی پلس کے باعث پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مزید شعبوں میں تعاون کے امکانات موجود ہیں۔
اس موقع پر ’یورپی یونین پاکستان بزنس نیٹ ورک‘ کا بھی باضابطہ آغاز کیا جائے گا، جس کا مقصد پاکستان میں کام کرنے والی یورپی کمپنیوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سویڈن کا 1 لاکھ ملازمتیں دینے کا اعلان، کون کون اپلائی کر سکتا ہے؟
فورم میں بزنس ٹو بزنس اور بزنس ٹو گورنمنٹ ملاقاتوں کا بھی اہتمام کیا جائے گا، جس کے ذریعے سرمایہ کاروں کو حکومتی پالیسی سازوں سے براہ راست رابطے اور مشترکہ منصوبوں پر بات چیت کا موقع ملے گا۔
ماہرین کے مطابق 25 کروڑ سے زائد آبادی، اسٹریٹجک محل وقوع اور یورپی یونین کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم مارکیٹ بناتے ہیں، جبکہ یہ فورم دونوں فریقین کے لیے اقتصادی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔














