ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کو جنوبی ایشیا کے ریجن سے نکال کر مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے گروپ میں شامل کرنا ایک انتہائی اہم اور تزویراتی تبدیلی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ بینک کا پاکستان کے 10 سالہ ترقیاتی پروگرام کے لیے حمایت کا اعادہ
حال ہی میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اس نئے گروپ کو اب میناپ (مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان) کا نام دیا گیا ہے۔
اس تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟
ورلڈ بینک کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ فیصلہ کسی جغرافیائی تبدیلی کی بنیاد پر نہیں بلکہ انتظامی اور معاشی تبدیلیوں کی بنیاد پر کیا ہے۔
اوورسیز امپلائمنٹ کے ماہر عدنان پراچہ کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت بھارت یا بنگلہ دیش کے مقابلے میں خلیجی ممالک یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر کے ساتھ زیادہ جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ترسیلات زر، توانائی کی درآمدات اور مالیاتی مدد کا بڑا حصہ اسی خطے سے آتا ہے اور ورلڈ بینک نے اس پورے میناپ ریجن کے لیے اپنا علاقائی مرکز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منتقل کر دیا ہے تاکہ ان ممالک کے ساتھ بہتر کوآرڈینیشن ہو سکے۔
مزید پڑھیے: وزیر خزانہ کی ورلڈ بینک کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات، اصلاحات اور سماجی تحفظ پر تبادلہ خیال
ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کے معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز اب جنوبی ایشیائی ممالک کے بجائے مشرق وسطیٰ کے ممالک سے زیادہ مماثلت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں ایک ہی فریم ورک میں دیکھنا آسان ہو گیا ہے۔
کیا یہ پاکستان کی درخواست پر کیا گیا؟
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق یہ ورلڈ بینک کا اپنا اندرونی انتظامی فیصلہ تھا رپورٹ میں پاکستان اور افغانستان کو بھی ان ممالک میں شامل کیا گیا ہے جو پہلے ہی کم پیداواری صلاحیت، نجی شعبے کی کمزوری اور لیبر مارکیٹ کے مسائل کا شکار ہیں اور حالیہ جھٹکوں نے وہاں روزگار کی فراہمی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
ورلڈ بینک کے نائب صدر عثمان دیون کے مطابق یہ بحران ایک یاد دہانی ہے کہ خطے کو نہ صرف ان جھٹکوں کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ اپنی معیشتوں کو دوبارہ مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے، طرزِ حکمرانی میں بہتری لانے اور روزگار پیدا کرنے والے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کو اس کے کیا فوائد حاصل ہوں گے؟
معاشی ماہر شہریار بٹ کے مطابق پاکستان کے لیے اس تبدیلی کے کئی ممکنہ فوائد اور اثرات ہو سکتے ہیں۔
شہریار بٹ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے امیر ممالک کے ساتھ ایک ہی گروپ میں ہونے کی وجہ سے پاکستان کو خلیجی سرمایہ کاروں کے سامنے خود کو بہتر طور پر پیش کرنے کا موقع ملے گا اور اب اس کو مشرق وسطیٰ کے معاشی ماڈل کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک اب پاکستان کو صرف ایک جنوبی ایشیائی ملک کے بجائے ایک پل کے طور پر دیکھ رہا ہے جو وسطی ایشیا، خلیج اور بحیرہ عرب کو آپس میں جوڑتا ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیرِ خزانہ سے ورلڈ بینک حکام کی ملاقات، ترقیاتی تعاون اور اصلاحات پر تبادلۂ خیال
انہوں نے کہا کہ اس سے سی پیک اور دیگر ٹرانزٹ منصوبوں کو بین الاقوامی سطح پر نئی اہمیت ملے گی اور پاکستان اب اس فنڈنگ اور تکنیکی معاونت کے پروگراموں تک رسائی حاصل کر سکے گا جو خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں۔
ماہر معاشیات جبران احمد کے مطابق اس تبدیلی سے پاکستان کا سفارتی وزن جنوبی ایشیا کے بجائے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھے گا جہاں پاکستان کے پہلے ہی گہرے دفاعی اور برادرانہ تعلقات ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اجلاسوں کے لیے امریکا روانہ
انہوں نے کہا کہ جغرافیائی طور پر پاکستان جنوبی ایشیا کا ہی حصہ رہے گا لیکن ورلڈ بینک کے کاغذات اور معاشی پالیسیوں میں اب ہم مشرق وسطیٰ کے بلاک کا حصہ بن چکے ہیں۔













