امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس معاہدے کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہے، تاہم اس کے لیے ایران کو اپنا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر ترک کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ’ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ‘فیلڈ مارشل کی ٹرمپ کو فون کال
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کی میز پر اب فیصلے کی باری ایران کی ہے اور اسے دانشمندی پر مبنی بہترین فیصلہ کرنا ہوگا، کیونکہ اب بال ایران کے کورٹ میں ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع نے ایرانی سمندروں کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سمندری حدود میں امریکی ناکہ بندی ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سخت اور مضبوط کی جارہی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے فوجی اور سفارتی تمام آپشنز زیرِ استعمال ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: جے ڈی وینس امریکا سے صورتحال کی نگرانی کریں گے، وائٹ ہاؤس کا پاکستان کو خراجِ تحسین
دوسری جانب امریکی فوج کے جنرل ڈین کین نے تصدیق کی ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی پر ہر سطح پر سختی سے عمل درآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حال ہی میں قبضے میں لیے گئے ایرانی بحری جہاز ‘توسکا’ کا تمام عملہ محفوظ ہے۔














