خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان روابط ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بن گئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 2 روز میں پاکستان کے 2 دورے کیے۔ اس دوران انہوں نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں کو خود ایرانی وزیر خارجہ نے انتہائی مفید قرار دیا، تاہم ان کا یہ بیان کہ ابھی دیکھنا ہے کہ آیا امریکا واقعی سفارت کاری کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں ایک بڑے سفارتی تناظر کی نشاندہی کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ایک بار پھر دورہ پاکستان کا امکان
ایرانی وزیر خارجہ ہفتے کے روز اپنا دورہ پاکستان مکمل کرکے عمان روانہ ہوئے، تاہم اتوار کو ایک بار پھر پاکستان آئے، اور مختصر قیام کے بعد روس روانہ ہوگئے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاکستان کے حالیہ دوروں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا عمل محض ایک رسمی دورے تک محدود نہیں بلکہ ایک مسلسل سفارتی رابطے کی شکل اختیار کررہا ہے۔
ماہرین کے نزدیک یہ پیشرفت نہ صرف پاک ایران تعلقات بلکہ خطے میں جاری کشیدگی، ممکنہ مذاکرات اور عالمی طاقتوں کے کردار کے حوالے سے بھی خاصی اہمیت رکھتی ہے۔
ایسے میں چند اہم سوالات جنم لیتے ہیں کہ کیا عباس عراقچی کے پاکستان کے دورے کسی بڑے بریک تھرو کا سبب بن سکتے ہیں، اور کیا یہ پیشرفت خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مددگار ہوگی؟
پیچیدہ اور حساس معاملات میں فوری نتائج کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوتا، جلیل عباس جیلانی
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ عباس عراقچی کا مسلسل پاکستان آنا دراصل پاکستان اور ایران کے درمیان معمول کی سفارتی مشاورت کا حصہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کسی عارضی یا علامتی رابطے کے بجائے ایک تسلسل کے ساتھ مکالمے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
جلیل عباس جیلانی کے خیال میں یہ سلسلہ بالآخر ایران اور امریکا کے درمیان ایک بامعنی اور مستقل مذاکراتی عمل کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جو خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ایسے پیچیدہ اور حساس معاملات میں فوری نتائج کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوتا۔ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمت ایک طویل اور مرحلہ وار عمل ہوگا، جس کے لیے متعدد ملاقاتیں، اعتماد سازی اور مسلسل سفارتی کوششیں درکار ہوں گی۔
انہوں نے کہاکہ یہی وجہ ہے کہ عباس عراقچی کے بار بار دوروں کو کسی فوری بریک تھرو کے بجائے ایک تدریجی اور محتاط سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
ایران جلد بازی کے بجائے ایک منظم، مربوط اور کثیر الجہتی سفارتی فریم ورک کے تحت آگے بڑھنا چاہتا ہے، مسعود خالد
سابق سفارتکار مسعود خالد کے مطابق ایران کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات سے قبل اہم علاقائی اور عالمی شراکت داروں، خصوصاً روس اور عمان کے ساتھ قریبی مشاورت کو یقینی بنائے۔
مسعود خالد کہتے ہیں کہ اس پیشگی مشاورت کا مقصد یہ ہے کہ جب ایران امریکا کے ساتھ بات چیت کی میز پر آئے تو اس کے مؤقف میں ہم آہنگی، وضاحت اور ایک مشترکہ سفارتی سمجھ بوجھ کی جھلک نظر آئے۔
انہوں نے کہاکہ بالخصوص عمان، جو ماضی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان بیک چینل سفارت کاری میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے، اس عمل میں ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ روس کی شمولیت ایران کے مؤقف کو ایک وسیع تر اسٹریٹجک تناظر فراہم کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا دورہ سود مند رہا، اب دیکھنا ہوگا امریکا سفارتکاری میں سنجیدہ ہے یا نہیں، ایرانی وزیر خارجہ
مسعود خالد کے مطابق یہ حکمتِ عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایران ممکنہ مذاکرات میں جلد بازی کے بجائے ایک منظم، مربوط اور کثیر الجہتی سفارتی فریم ورک کے تحت آگے بڑھنا چاہتا ہے، تاکہ نہ صرف اپنے مفادات کا مؤثر دفاع کیا جا سکے بلکہ کسی پائیدار اور قابلِ قبول حل تک پہنچنے کے امکانات بھی بڑھائے جا سکیں۔














