چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کے تبادلوں کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ اور عدلیہ پر انتظامی دباؤ قرار دیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں شرکت کا بھی اعلان کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں گوہر علی خان نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان آج 4 الگ الگ نشستوں میں ان ججوں کے تبادلوں پر غور کر رہا ہے، جو گزشتہ 50 برسوں میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کیونکہ اس سے قبل کسی بھی ہائیکورٹ کے جج کو اس کی رضامندی کے بغیر دوسرے ہائیکورٹ منتقل نہیں کیا گیا۔
Today, in four separate sittings, JCP is considering the transfer of five judges of Islamabad High Court to other high courts.This is unprecedented as in the last fifty years no judge of a high court was transferred to another high court without his consent. This is arbitrary,…
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) April 28, 2026
انہوں نے اس اقدام کو من مانی، غیر شفاف اور سزا دینے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدلیہ پر انتظامیہ کے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا سوال تھا کہ آخر صرف اسی ہائیکورٹ کے 5 ججوں کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے مطالبہ کیا کہ ججوں کے تبادلوں کی سمری واپس لی جائے تاکہ پہلے سے دباؤ کا شکار عدلیہ کو آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دینے کا موقع مل سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے فیصلے کے مطابق جوڈیشل کمیشن میں اپوزیشن کے دونوں نمائندے، یعنی وہ خود اور علی ظفر، آج کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔














