عالمی توانائی نظام میں تبدیلی، پاکستان کو مؤثر حکمت عملی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک

بدھ 20 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی توانائی کا نظام اس وقت ایک بنیادی اور ساختی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے، جس کے لیے پالیسی سطح پر مضبوط مکالمہ اور حقائق پر مبنی تجزیہ انتہائی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے سعودی سفیر کی ملاقات، پیٹرولیم شعبے میں جاری تعاون کا جائزہ

انہوں نے کہا کہ ملک میں اقتصادی اور توانائی کے معاملات پر گفتگو کو شور اور غیر مصدقہ دعوؤں سے پاک ہونا چاہیے تاکہ بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے پلیٹ فارمز جو پالیسی ڈسکورس کو بہتر بناتے ہیں، وہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ یہ معیشت اور توانائی کے شعبے میں علمی بنیادوں پر بحث کو فروغ دیتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ ہمیشہ اس بات کے قائل رہے ہیں کہ تنقید اور تجزیہ حقائق پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ محض الجھن پیدا کرنے کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور پالیسی سازی کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی اور بہتر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔

علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ عالمی توانائی نظام میں تبدیلی کے باعث پاکستان جیسے ممالک کے لیے انرجی سیکیورٹی ایک اہم چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک سے توانائی ذرائع کی فراہمی اور تنوع  وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مجبوراً عوام پر منتقل کرنا پڑیں، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک

انہوں نے ریفائنری سیکٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بعض تکنیکی اور ادارہ جاتی محدودیتوں کی وجہ سے سپلائی چین میں مشکلات پیش آئیں، جن سے سبق لیتے ہوئے اب زیادہ لچکدار اور جدید حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں استعداد کار بڑھانے، بہتر منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی مضبوطی کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے بحران سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp