وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی توانائی کا نظام اس وقت ایک بنیادی اور ساختی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے، جس کے لیے پالیسی سطح پر مضبوط مکالمہ اور حقائق پر مبنی تجزیہ انتہائی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے سعودی سفیر کی ملاقات، پیٹرولیم شعبے میں جاری تعاون کا جائزہ
انہوں نے کہا کہ ملک میں اقتصادی اور توانائی کے معاملات پر گفتگو کو شور اور غیر مصدقہ دعوؤں سے پاک ہونا چاہیے تاکہ بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے پلیٹ فارمز جو پالیسی ڈسکورس کو بہتر بناتے ہیں، وہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ یہ معیشت اور توانائی کے شعبے میں علمی بنیادوں پر بحث کو فروغ دیتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ ہمیشہ اس بات کے قائل رہے ہیں کہ تنقید اور تجزیہ حقائق پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ محض الجھن پیدا کرنے کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور پالیسی سازی کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی اور بہتر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔
علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ عالمی توانائی نظام میں تبدیلی کے باعث پاکستان جیسے ممالک کے لیے انرجی سیکیورٹی ایک اہم چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک سے توانائی ذرائع کی فراہمی اور تنوع وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مجبوراً عوام پر منتقل کرنا پڑیں، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک
انہوں نے ریفائنری سیکٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بعض تکنیکی اور ادارہ جاتی محدودیتوں کی وجہ سے سپلائی چین میں مشکلات پیش آئیں، جن سے سبق لیتے ہوئے اب زیادہ لچکدار اور جدید حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں استعداد کار بڑھانے، بہتر منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی مضبوطی کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے بحران سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔














