25 کلوواٹ تک سولر صارفین کے لیے لائسنس فیس ختم، نیپرا کا نوٹیفکیشن جاری

منگل 28 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 25 کلوواٹ سے کم صلاحیت رکھنے والے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے لائسنس کی شرط اور فی کلوواٹ ایک ہزار روپے فیس کو ابتدا ہی سے ختم کر دیا ہے۔

یہ پیش رفت 2 دن بعد سامنے آئی ہے جب پاور ڈویژن نے ’دھوپ پر ٹیکس‘ کے حوالے سے شدید عوامی تنقید کا سامنا کرتے ہوئے نیپرا کو یہ شرط ختم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ہدایت پر عمل کرتے ہوئے نیپرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بجلی پیدا اور استعمال کرنے والے صارفین یعنی ’پروسومرز‘ کے قواعد میں ترمیم کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیٹ میٹرنگ میں تبدیلیاں: کیا سولر اب بھی صارفین کے لیے فائدہ مند رہے گا؟

25 کلوواٹ تک کی ڈسٹری بیوٹڈ جنریشن پر کوئی لائسنس فیس عائد نہیں ہوگی، تاہم اس سے زیادہ صلاحیت رکھنے والے صارفین کو فی کلوواٹ ایک ہزار روپے کی یکمشت فیس ادا کرنا ہوگی۔

حکم نامے کے مطابق یہ نوٹیفکیشن 9 فروری 2026 سے مؤثر تصور ہوگا۔

اس سے قبل دن میں نیپرا کی رکن آمنہ احمد نے کہا تھا کہ ریگولیٹر حکومتی تجویز پر غور کر رہا ہے، تاہم وہ عوامی سماعتوں کے دوران پریس کانفرنس نہیں کر سکتے یا پالیسی فیصلے ’لیک‘ نہیں کر سکتے۔

تاہم چند گھنٹوں بعد ہی نیپرا نے پاور ڈویژن کی ہدایات کے مطابق نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

اتوار کو پاور ڈویژن نے بیان میں کہا تھا کہ اس نے وزیرِ توانائی اویس لغاری کی ہدایت پر نیپرا کو باضابطہ طور پر یہ شرط ختم کرنے کے لیے کہا ہے۔

بیان میں یاد دہانی کرائی گئی کہ اس سے قبل بھی نیپرا کو لائسنس اور فیس کے منفی اثرات سے آگاہ کیا گیا تھا اور پرانے ضوابط کے مطابق فیصلے کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: سولر نیٹ میٹرنگ کی نئی پالیسی، پاور ڈویژن اور سولر صارفین کا اس پر کیا مؤقف ہے؟

اویس لغاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ہماری حکومت سولر اور صارف دوست ہے اور صاف توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

’ہم غیر ضروری رکاوٹیں ختم، اخراجات کم اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینا چاہتے ہیں۔‘

2015 کے سابقہ ضوابط کے تحت 25 کلوواٹ یا اس سے کم صلاحیت کے سسٹمز کے لیے نیپرا سے لائسنس درکار نہیں تھا۔

مزید پڑھیں: چاہتے ہیں لوگ سولر نیٹ میٹرنگ لگائیں تو تین، 4 سال میں پیسے پورے کرکے خوش ہوجائیں، سردار اویس خان لغاری

درخواستیں براہ راست ڈسکوز کے ذریعے بغیر کسی فیس کے نمٹائی جاتی تھیں، جو گھریلو صارفین کے لیے ایک اہم مالی سہولت تھی۔

تاہم نئے پروسومر ریگولیشنز کے تحت منظوری کا اختیار نیپرا کے پاس منتقل کر دیا گیا اور چھوٹے صارفین پر بھی درخواست فیس عائد کر دی گئی۔

پاور ڈویژن نے اپنے بیان میں کہا کہ پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ نے اس تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہوئے نیپرا سے کہا تھا کہ 25 کلوواٹ تک کے نظام کے لیے پرانے طریقہ کار کو برقرار رکھا جائے۔

مزید پڑھیں: جو صارفین سولر نیٹ میٹرنگ پر نہیں وہ اس کا بوجھ کیوں اٹھائیں؟ وزیر توانائی اویس لغاری

گزشتہ چند برسوں میں نیپرا کو حکومتی پالیسیوں، خصوصاً پاور ڈویژن کی ضروریات کے مطابق کام کرنے پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔

پاور ڈویژن نے اس سے قبل بھی نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ صارفین کے مالی فوائد کم کیے جا سکیں، تاہم عوامی ردعمل کے بعد یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔

بعد ازاں معاملہ نیپرا کو منتقل کیا گیا جس نے گزشتہ سال نومبر میں صارفین کے فوائد میں کمی کی اور کچھ موجودہ صارفین کی سہولتیں بھی ختم کر دیں۔

مزید پڑھیں: نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ منظور کرلیا، فی یونٹ کتنے پیسے بڑھ گئے؟

شدید تنقید کے بعد نیپرا نے موجودہ صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ بحال کر دی اور فروری میں نیٹ بلنگ کے لیے نئی درخواستوں کے ساتھ فی کلوواٹ ایک ہزار روپے لائسنس فیس متعارف کرائی۔

جیسے ہی نیپرا میں درخواستوں کی تعداد بڑھی، سوشل میڈیا پر حکومت اور وزیرِ توانائی کے خلاف مہم شروع ہو گئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ قدرتی توانائی پر عوام سے ناجائز رقم وصول کی جا رہی ہے۔

پاور ڈویژن نے کئی ہفتوں تک اس فیس سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیپرا کا اختیار ہے اور اس کے دائرہ کار سے باہر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی میں انسانیت کے سفر کی نمائش، آصفہ بھٹو زرداری کی شرکت

ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر ہیں، کیا آپ نے ان کے وفد پر غور کیا ہے؟

آذربائیجان کے وزیرِ انصاف کی سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات، عدالتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

پی ٹی آئی ایم این اے اقبال آفریدی کے بیٹے کی اٹلی میں سیاسی پناہ؛ وجہ کیا بتائی گئی؟

ٹیکس پالیسی تجاویز پر اعلیٰ سطحی اجلاس، آئندہ بجٹ کے لیے متوازن اور ترقیاتی اقدامات پر زور

ویڈیو

صدر ٹرمپ کا دورۂ چین، شی جن پنگ کا امریکا کو شراکت داری کا پیغام

روایتی عدالتی نظام سے ہٹ کر ثالثی کا نظام ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کیوں ضروری ہے؟

کیا گوادر پورٹ نیا تجارتی مرکز بننے جارہا ہے، کوئٹہ کے شہری کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر ہیں، کیا آپ نے ان کے وفد پر غور کیا ہے؟

سعودی عرب کی سوچ

چپکے چپکے دل میں اترتا حسرتؔ