پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے اپنے بیٹے کے یورپ سفر اور اٹلی میں سیاسی پناہ لینے کی تصدیق کر دی ہے۔
قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی رہنما نے سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریم میں بتایا کہ حالات نے انہیں اس حد تک مجبور کر دیا کہ ان کا جوان بیٹا ان سے دور ہو گیا۔
اقبال آفریدی نے اپنے بیٹے کے سیاسی پناہ لینے کے فیصلے کا دفاع بھی کیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ان کے بیٹے کے پاس سفارتی پاسپورٹ تھا یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون کولیگ کے متعلق ریمارکس اقبال آفریدی کے شایان شان نہیں، سی ای او کے الیکٹرک
ایم این اے اقبال آفریدی کے بیٹے کے سیاسی پناہ لینے کے حوالے سے گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر خبریں گردش کر رہی تھیں۔
وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں اس پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اقبال آفریدی کے بیٹے نے اٹلی میں سیاسی پناہ کی درخواست دے دی ہے۔
وزیرِ مملکت نے دعویٰ کیا کہ اقبال آفریدی کے بیٹے کے پاس سفارتی پاسپورٹ تھا اور وہ اسی پاسپورٹ پر ایک ایسے یورپی ملک پہنچا جہاں سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کو پہلے سے ویزا لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ان کے مطابق، اسی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایم این اے کا بیٹا یورپ میں داخل ہوا، پھر وہاں سے اٹلی پہنچا اور سیاسی پناہ کی درخواست دے دی۔
’سیاسی انتقامی کارروائیوں نے بیٹے کو دور کردیا‘
طلال چوہدری کے بیان کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے پی ٹی آئی اور ایم این اے اقبال آفریدی کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس پر اقبال آفریدی نے بھی خاموشی توڑ دی اور سوشل میڈیا پر لائیو آ کر اس معاملے پر گفتگو کی۔
اقبال آفریدی نے پشتو زبان میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ ملک میں مبینہ سیاسی انتقامی کارروائیاں جاری ہیں، جن سے ہر شخص تنگ ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے کو کئی بار اٹھایا گیا تھا، باخبر ذرائع کے مطابق اقبال آفریدی کا 28 سالہ بیٹا گزشتہ سال پاکستان سے باہر گیا تھا۔
مزید پڑھیں: پشاور، بانی پی ٹی آئی کے خلاف بات کیوں کی؟ اقبال آفریدی امام مسجد سے الجھ پڑے، ویڈیو وائرل
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس حوالے سے تحقیقات بھی کی تھیں، جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بھی اس معاملے پر اقبال آفریدی سے رابطہ کیا تھا۔
اقبال آفریدی نے اپنے بیان میں اس صورتحال کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں کوئی نظام نہیں۔
’میرے بیٹے سے پہلے بھی کتنے لوگ گئے ہیں اور کتنے لوگوں نے پناہ لی ہے، اس کی بھی تفصیلات سامنے لائی جائیں۔‘
اقبال آفریدی کے مطابق، خراب نظام کی وجہ سے ان کا بیٹا ان سے دور چلا گیا ہے۔
کیا اقبال آفریدی کا بیٹا سفارتی پاسپورٹ پر اٹلی پہنچا؟
وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ اقبال آفریدی کے بیٹے کے پاس سفارتی پاسپورٹ تھا، جو مبینہ طور پر اقبال آفریدی نے اپنے اثر و رسوخ سے حاصل کیا تھا۔
تاہم، اقبال آفریدی نے اپنے بیان میں نہ اس کی تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔
انہوں نے صرف اٹلی میں پناہ لینے کی تصدیق کی، تاہم یہ نہیں بتایا کہ ان کا بیٹا وہاں کیسے پہنچا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی پارلیمنٹ ہاؤس میں آپس میں الجھ پڑے، بیرسٹر گوہر کو بھی نہ بخشا
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اقبال آفریدی کے بیٹے کی عمر 28 سال ہے، جبکہ سفارتی پاسپورٹ صرف بیوی اور 18 سال سے کم عمر بچوں کو جاری کیا جاتا ہے۔
انہوں نے سفارتی پاسپورٹ پر سفر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اقبال آفریدی کو ان کے بیٹے کے عمل کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
واقعات سے باخبر ذرائع کے مطابق، اقبال آفریدی کا بیٹا پارٹی کا عہدیدار نہیں تھا، تاہم وہ بیرونِ ملک جانے کی کوششوں میں پہلے سے مصروف تھا۔
مزید پڑھیں: اسپیکر قومی اسمبلی کا خاتون کے لباس سے متعلق بیان پر نوٹس، کمیٹی قائم
ذرائع نے بتایا کہ اٹلی پہنچنے کے بعد اس نے اپنے والد کے سیاسی پس منظر اور عہدے کو بنیاد بنا کر سیاسی پناہ کی درخواست دی۔
ذرائع کے مطابق، اقبال آفریدی کو پہلے سے تمام معاملات کا علم تھا، جبکہ پارٹی کے بعض رہنما بھی اس سے باخبر تھے۔
تاہم، طلال چوہدری کی جانب سے معاملہ منظرِ عام پر آنے کے بعد پی ٹی آئی اور اقبال آفریدی کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔














