بلوچستان قدرتی حسن اور دلکش مناظر سے مالا مال، سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود

منگل 28 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان قدرتی حسن اور دلکش مناظر سے مالا مال صوبہ ہے جہاں سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ صوبے کے وسیع ساحلی علاقے، بلند پہاڑی سلسلے، وادیاں اور صحرا اسے ایک منفرد سیاحتی حیثیت دیتے ہیں۔ کوسٹل بیلٹ، گڈانی، کند ملیر، سپٹ بیچ اور رِس ملان جیسے مقامات اپنی خوبصورتی اور قدرتی ماحول کے باعث ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر بلوچستان میں سیاحتی انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے اور مؤثر پالیسی کے تحت ان مقامات کو فروغ دیا جائے تو یہ خطہ ملک میں سیاحت کے شعبے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

محفوظ اور پرامن ماحول کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کی موجودگی بلوچستان کو ایڈونچر اور ایکو ٹورازم کے لیے ایک بہترین منزل بناتی ہے، جس سے نہ صرف مقامی معیشت مضبوط ہو سکتی ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں

بلوچستان کے پارلیمانی سیکریٹری زرین خان مگسی نے کہا ہے کہ صوبے کے مشرقی اور شمالی علاقوں کے ساتھ ساتھ مغربی خطے کو بھی دیکھنے کے بجائے اگر صرف کوسٹل بیلٹ کا جائزہ لیا جائے تو بلوچستان میں سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ کوسٹل بیلٹ ہَب سے شروع ہو کر گوادر اور جیوانی تک پھیلا ہوا ہے جو ایران کی سرحد سے بھی ملتا ہے اور اس میں متعدد جزائر اور خوبصورت مقامات شامل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہَب اور گڈانی کے قریب دو بڑے جزیرے موجود ہیں جبکہ دیگر علاقے بھی سیاحتی اعتبار سے انتہائی اہم ہیں، تاہم ان میں سے کئی مقامات کے بارے میں لوگوں کو زیادہ آگاہی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام خطہ محفوظ اور پُرامن ہے اور وہ خود بھی ان علاقوں کا دورہ کر چکے ہیں۔

زرین خان مگسی نے کہاکہ کند ملیر اور رِس ملان جیسے مقامات پر غیر ملکی سیاح بھی آتے ہیں اور گزشتہ سال قریباً 40 سے 50 غیر ملکی سیاح ان علاقوں میں آئے تھے۔

ان کے مطابق بلوچستان میں سیاحت کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے جسے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ بدقسمتی سے صوبے میں تاحال جامع سیاحتی پالیسی موجود نہیں، تاہم اس حوالے سے پیش رفت جاری ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال ایک سیاحتی کانفرنس منعقد کی گئی تھی جس کا مقصد بلوچستان کے مختلف سیاحتی مقامات کو اجاگر کرنا تھا۔

پارلیمانی سیکریٹری نے بتایا کہ متعلقہ اداروں سے مشاورت جاری ہے اور ایک جامع سیاحتی پالیسی کے لیے کام کیا جا رہا ہے، جس کے تحت نہ صرف پالیسی تیار کی جائے گی بلکہ اسے قانون سازی کے ذریعے مؤثر طور پر نافذ بھی کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp