اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا تبادلہ سزا نہیں انتظامی معاملہ ہے، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک

بدھ 29 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 ججوں کے تبادلے کے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام سزا نہیں بلکہ ایک انتظامی روٹیشن ہے جو عرصے سے بار کونسلز کا مطالبہ رہا ہے۔

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جے سی پی کے فیصلے آئین اور قانون کے مطابق ہیں اور کمیشن کا کوئی رکن دوسرے کے ماتحت نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیے: جوڈیشل کمیشن اجلاس: جسٹس محسن اختر کیانی لاہور، بابر ستار پشاور اور جسٹس ثمن رفعت کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جے سی پی نے اکثریتی فیصلے کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کے تبادلے کی منظوری دی، جن میں جسٹس محسن اختر کیانی کو لاہور ہائی کورٹ، جسٹس بابر ستار کو پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو سندھ ہائی کورٹ منتقل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جج بھی پاکستان کے سروس اسٹرکچر کا حصہ ہیں اور اگر افسران کے تبادلے کمیشن کے ذریعے ہو سکتے ہیں تو ججوں کے بھی ہو سکتے ہیں۔ بیرسٹر عقیل ملک کے مطابق جسٹس بابر ستار کی تحریری رائے کمیشن کے سامنے رکھی گئی تھی اور آئین کے تحت کمیشن کسی جج کو سن سکتا ہے لیکن ایسا کرنا لازمی نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر چیف جسٹس پاکستان جے سی پی اجلاس کے حق میں نہ ہوتے تو وہ اجلاس میں شریک نہ ہوتے، تاہم اس معاملے کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا تعلق سندھ سے ہے اور انہیں واپس ان کے صوبے میں بھیجا جا رہا ہے، جبکہ ججوں کی طویل تعیناتیوں سے گروہ بندیوں کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: وفاقی آئینی عدالت ججز کا فل کورٹ اجلاس، مقدمات کے جلد فیصلوں اور بیک لاگ کے خاتمے پر زور

انہوں نے کہا کہ ‘یہ عام بات ہے کہ جڑیں بن جاتی ہیں’ تاہم حکومت نے عدلیہ کی جڑیں نہیں کاٹیں اور نہ ہی عدالتی آزادی پر کوئی قدغن لگائی گئی ہے۔

جے سی پی کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی جانب سے ججوں کے تبادلے کی تجویز دی گئی تھی تاہم اس معاملے پر عدالتی حلقوں میں بحث جاری رہی۔

اس سے قبل چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بغیر واضح جواز کے تبادلوں پر آئینی اور ادارہ جاتی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے اقدامات کو سزا کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور اس سے عدالتی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف نے ججوں کے تبادلوں پر تنقید کرتے ہوئے اسے عدلیہ کی آزادی کے خلاف قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ہائیکورٹ ججز کے تبادلوں پر جوڈیشل کمیشن اجلاس طلب، چیف جسٹس کے تحفظات سامنے آ گئے

پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ججوں کے تبادلے آزاد عدلیہ کے تصور کے منافی ہیں اور اس سے عدالتی نظام میں تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام ہائی کورٹس میں ججوں کی تعداد مکمل ہے، اس لیے تبادلوں کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کے مطابق ‘ججوں کے تبادلے کسی فرد واحد کا کام نہیں’ اور آئین کے مطابق ججوں کو ان کی رضامندی کے بغیر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp